آصفہ قتل کیس - محبوبہ مفتی کا سی بی آئی کے حوالے کرنے سے انکار

وزیراعلیٰ کا بی جے پی وزرائ کے وفد کیساتھ ملاقات کے دوران سخت رویہ ، کہا کرائم برانچ نے کیس کے حوالے سے 95فیصد تحقیقات مکمل کرلی ہے - اب دو تین دن میں چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا - کٹھوعہ میں امتناعی احکامات کے باوجود ہندوایکتا منچ کی ریلی، قاتلوں کو رہا کرنے کا مطالبہ ،توڑ پھوڑ میں ملوث بلوائیوں کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ اور لاٹھی چارج
ثبوت مٹانے والے دو پولیس اہلکار گرفتار
جموں /یو این آئی / جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ضلع کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاؤں میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن ﴿سی بی آئی﴾کے حوالے کرنے کے بھارتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی﴾ کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات 95 فیصد مکمل ہوچکی ہے اور کیس کا چالان آئندہ دو تین دنوں میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یہ اطلاع بی جے پی وزرائ بالی بھگت اور اجے نندا نے جمعرات کی شام یہاں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران نامہ نگاروں کو دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی کابینہ میں شامل بی جے پی وزرائ کا ایک وفد جمعرات کو وزیر اعلیٰ سے ملاقی ہوا اور تین معاملات ان کی نوٹس میں لائے۔ بالی بھگت جو کہ صحت و طبی تعلیم کے ریاستی وزیر ہیں، نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کٹھوعہ کیس کی تحقیقات سی بی آئی حوالے کرنے کے مطالبے پر کہا کہ کرائم برانچ نے کیس کی تحقیقات تقریباً مکمل کردی ہے۔ انہوں نے کہا ’پولیس ﴿کٹھوعہ واقعہ کی﴾ تحقیقات کررہی ہے، اور تحقیقات کے دوران پولیس سے شاید غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔ وہاں کے لوگ کافی دنوں سے مانگ کررہے ہیں کہ واقعہ کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ ہونی چاہیے۔ ہم نے یہ بات وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھی۔ ہم نے وزیر اعلیٰ صاحبہ سے کہا کہ اس تحقیقات کو سی بی آئی کے حوالہ کیا جانا چاہیے۔ یہ لوگوں کی مانگ ہے‘۔ مسٹر بالی بھگت نے کہا’ وزیر اعلیٰ صاحبہ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات 95 فیصد مکمل ہوچکی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کرائم برانچ آئندہ دو تین دنوں میں عدالت میں چالان بھی پیش کرے گی اور اس کے بعد عدالت اپنا کام کرے گی‘۔ بی جے پی وزیر نے کہا کہ کیس میں جو قصوروار ہیں، ان کو سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’ہم نے وزیر اعلیٰ صاحبہ سے کہا کہ کسی عام شہری کی ہراسانی نہیں ہونی چاہیے۔ جو لوگ ملوث ہیں، ان کو سزا ملنی چاہیے‘۔ واضح رہے کہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں کلیدی ملزم قرار دیے جانے والے ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گذشتہ ہفتے ترنگا ریلی نکالنے والی ہندو ایکتا منچ واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر ایجی ٹیشن کررہی ہے۔ یہ تنظیم کٹھوعہ میں ریلیاں نکالنے کے علاوہ ہڑتال بھی کرا رہی ہے۔ ہندو ایکتا منچ اور بار ایسو سی ایشن کٹھوعہ کا مشترکہ موقف ہے کہ کیس کی موجودہ جانچ ایجنسی ﴿کرائم برانچ پولیس﴾ ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کررہی ہے۔اس دوران کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاؤں میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن ﴿سی بی آئی﴾کے حوالے کرنے کے ایک مخصوص طبقہ کے مطالبے کو منوانے کے لئے معرض وجود /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
میں آنے والی ہندو ایکتا منچ نے جمعرات کو ایک بار پھر ضلع میں نافذ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہیرا نگر سب ڈویژن میں ایک پرتشدد احتجاجی مارچ نکالا۔ ہیرا نگر کے چڈوال سے دیال چک تک نکلنے والے اس مارچ جس کو ہندو ایکتا منچ نے ’امن مارچ‘ کا نام دیا تھا، کے شرکائ نے پولیس کے ساتھ دھکا مکی کی جس کے بعد پولیس نے مجبوراً آنسو گیس کے کچھ شیل چھوڑنے کے علاوہ احتجاجیوں کے خلاف لاٹھی چارج بھی کیا۔ اس کے علاوہ قریب درجن بھر احتجاجیوں اور ان کے قائدین کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ طرفین کے مابین جھڑپوں کے دوران احتجاجیوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ احتجاجی ریلی کے علاقوں میں دکانیں بند یکھی گئیں۔ ضلع کٹھوعہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہونے کے باوجود نکلنے والی اس ریلی کے شرکائ ریاستی پولیس کے خلاف اور آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔ واضح رہے کہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں کلیدی ملزم قرار دیے جانے والے ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گذشتہ ہفتے ترنگا ریلی نکالنے والی ہندو ایکتا منچ واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر ایجی ٹیشن کررہی ہے۔ ہندو ایکتا منچ اور بار ایسو سی ایشن کٹھوعہ کا مشترکہ موقف ہے کہ کیس کی موجودہ جانچ ایجنسی ﴿کرائم برانچ پولیس﴾ ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کررہی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں کرائم برانچ کے تحقیقاتی عمل کو متعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیکر کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں اور اس کے لئے ایجی ٹیشن کررہی ہیں۔ انہیں ریاست کی مخلوط حکومت کی اکائی بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ دریں اثنا این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق آصفہ عصمت دری و قتل کیس کے ثبوت مٹانے کے سلسلے میں کرائم برانچ نے ایک سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل کو پوچھ گچھ کے لئے گرفتا کیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق پولیس تھانہ ہیرا نگر میں تعینات حوالدار تلک راج کو آصفہ کے خون سے لت پت کپڑے فارنسک ٹیسٹ کے لئے بھیجنے سے قبل دھونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیقاتی افسر سب انسپکٹر آنند دتہ کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کے حوالے سے کہا گیا ہے ’ہم نے حوالدار اور سب انسپکٹر کو گرفتار کرلیا ہے۔ ثبوت مٹانے کے سلسلے میں ان سے پوچھ گچھ ہورہی ہے‘۔ اس دوران ضلع مجسٹریٹ کٹھوعہ روہت کھجوریہ نے کہا کہ جو کوئی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرے گا، اس کو گرفتار کیا جائے گا۔ جموں میں ہر روز کسی نہ کسی مسئلے کو لیکر احتجاج کرنے والی نیشنل پنتھرس پارٹی بھی آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کے حق میں میدان میں اتر گئی ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر بلونت سنگھ مکٹویا کو جمعرات کو ریاستی پولیس نے اس وقت حفاظتی تحویل میں لیا جب وہ ہندو ایکتا منچ کے احتجاج میں شرکت کی غرض سے چڈوال آرہے تھے۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’کرائم برانچ کی طرف سے یہاں لوگوں کو خوامخواہ تنگ کیا جارہا ہے۔ ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ واقعہ کی انکوائری سی بی آئی کے حوالے کردی جائے۔ محبوبہ مفتی نے کرائم برانچ کے من پسند افسروں کو اس کیس کی تحقیقات پر مامور کردیا ہے۔ وہ ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو تنگ کررہے ہیں۔ یہ ناانصافی ہے جس کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔ انہوں نے مزید کہا ’یہاں آج ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا۔ ہم بھی احتجاج میں شرکت کے لئے آرہے تھے لیکن پولیس نے ہمیں راستہ میں ہی روک کر گرفتار کیا۔ رپورٹیں آئی ہیں کہ لوگوں کو پیٹا گیا ہے۔ کئی افراد کو سنگیں چوٹیں آئی ہیں۔ ہم حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ سی بی آئی سے کم کسی بھی دوسرے ادارے کی تحقیقات قبول نہیں ہوگی‘۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں