سانحہ کٹھوعہ کو سیاست سے دور رکھاجائے سرکردہ خواتین کی مانگ ملوثین کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ

سرینگر/کے این ایس/ سانحہ کھٹوعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی مانگ کرتے ہو ئے کئی سر کردہ خواتین نے تمام سیاسی جما عتوں پر زور دیا کہ وہ اس انسانیت سوز وا قعے پر خو فناک سیاست اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کا کھیل بند کر دیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کرائم بر انچ کی جانب سے کی جارہی تحقیقاتی عمل جلد مکمل کر نے کو یقینی بنائیںتاکہ قصور واروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ سانحہ کھٹوا کے حوالے سے ملک کی کئی سر کر دہ خواتین جن میں کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انو رادھا باسن ،ہیلپ فائو نڈیشن کی چیر پر سن نگہت شفیع،معروف معلم اور قلم کار نیرج متو ،سابق نائب صدر اسٹو ڈنٹس /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
یو نین جواہر لعل نہرو یو نیورسٹی دہلی شہلا رشید ،نتا شا کول کے علاوہ معروف قلم کار اور پروفسر اوکلامہ یو نیورسٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ کھٹوا میں پیش آئے انسانیت سوز واقعے پر خطر ناک سیاست کر نا بند کر دیں ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کھٹوا میں پیش آئے سانحہ کو فر قہ وارانہ رنگت دینے کی کو شش کی جارہی ہے جو ایک قابل تشویش بات ہے۔انہو ں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کرائم برا نچ کی جانب سے کرائی جارہی تحقیقات کی کا روائی کو تیز کر کے اس جلد سے جلد مکمل کریں تاکہ 8سالہ معصوم کے ساتھ بر بریت کر نے والوں کو سخت سزا دی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات ہو تاکہ ان کے لواحقین کو انصاف فراہم ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ آصفہ کے لواحقین کو ہراساں کیا جارہا ہے اور یہ عمل فوری طور پر رک جانا چاہئے ۔سر کر دہ خواتین نے یک زبان ہو کر کہا کہ مجر موں کو بچانے کے لئے کئی حر بے استعمال کئے جارہے ہیں اور ان کا طر یقہ کار قطعی طور پر مہذب نہیں ہو سکتا کیونکہ آ صفہ کے ساتھ پیش آیا المیہ قتل زیادتی اور غیر انسانی ہے اور اس میں ملوث مجرموں کو سخت سزا ملنی چاہئے ۔سر کر دہ خواتین کی جانب سے جاری کئے گئے بیان پر جن دیگر افراد نے اپنے دستخط کئے ہیں ان میں فلم میکر اور صحافی پون بالی،مندیپ رین ایڈوو کیٹ ہائی کورٹ جموں ،انسانی حقوق کارکن ایصار بتول،انسانی حقوق کارکن منتاشہ بنت رشید ،مالوی سلاتھیا،نصرت اندرابی،ڈاکٹر سعیدہ افشانہ،اضابر علی شامل ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں