پولیس و فورسز کو عدم تشدد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے عام شہریوں کی ہلاکتوں نے امن بحال کرنے کی کارروائی کو نقصان پہنچادیا:دنیشور شرما

سرینگر/اے پی آئی /پولیس و فورسز کو عدم تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے مرکز کی جانب سے مقرر کئے گئے مذاکراتکار نے شوپیاں میں عام شہریوں کی ہلاکتوںکو بہت بڑا دھچکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے مہینوں کے دوران ریاست خاصکر وادی کشمیر میں امن بحال ہو گا ۔ نئی دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کشمیر مسئلے کے مستقل حل کیلئے نامزد کئے گئے مذاکراتکار دنیشورشرما نے شوپیاں ہلاکتوں کو امن بحال کرنے ،لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے بڑا جھٹکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس و فورسز کو عدم تشدد کا راستہ اختیار کرنا/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 ہو گا تب جا کر ریاست وادی کشمیر میں حالات دوبارہ پٹری پر لوٹ آسکتے ہیں ۔ مذاکراتکار نے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں عمل میں لانے سے لوگوں میں ناراضگی حد سے زیادہ بڑھ گئی جبکہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور اس کے دوسرے اضلاع میں لوگ عام شہریوں کی ہلاکتوںکے سلسلے میں نالاں ہیں ۔ مذاکراتکار نے پولیس و فورسز پر زور دیا کہ وہ تشدد سے نمٹتے وقت خود عدم تشدد کا راستہ اختیار کرکے لوگوں میں اعتماد بحال کرنے کیلئے اقدامات اٹھا ئے تاکہ وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں ۔ انہوںنے انٹر ویوکے دوران کہا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے تاہم پولیس و فورسز کو چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ رابطہ بڑھانے کی کوشش کریں ۔ دنیشور شرما نے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں نے ریاست خاصکر وادی کشمیر میں امن بحال کرنے کی کارروائی کو بہت بڑا دھچکہ دیا تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ موسم بہار اور موسم گرما کے دوران حالات بہتر ہونگے جسے ریاست میں امن بحال ہونے میں مدد مل سکے گی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں