کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے اعتماد اور بھروسہ پیدا کرنے کی اشد ضرورت سابق وزیر اعظم نے کشمیر کے حوالے سے اچھی پالیسی اپنائی تھی:راہول گاندھی

نئی دہلی /کشمیر مسئلے کے مستقل حل کیلئے اعتماد سازی کو بحال کرنے ،لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے اپنے تین روزہ غیر ملکی دورے کے دوران کہا کہ سابق وزیر اعظم نے کشمیر کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے جو پالیسی اختیار کی تھی وہ نئی دہلی اور کشمیر کیلئے پل کی حیثیت رکھتی تھی ،2014میں جب میں نے کشمیر کا دورہ کیا تو مجھے اس بات پر افسو س ہوا کہ غلط سیاسی فیصلے لئے جا رہے ہیں جسے لوگوں کو مشکلات اور مصائب کا سامنا کرناپڑ رہا ہے ۔اپنے تین روزہ غیر ملکی دورے کے موقعے پر سنگا پورہ میں منعقد کی گئی ایک تقریب میں بولتے ہوئے کانگریس صدر راہول گاندھی نے کشمیر کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2004میں یو پی اے کی حکومت کو ایک جلتا ہوا کشمیر دیا گیا ،تاہم یو پی اے دس سالہ دور ِ اقتدار میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جو پالیسی اختیار کی تھی وہ نئی دہلی اور ریاست کے لوگوں کے درمیان پل کی حیثیت رکھتی تھی ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ کشمیر مسئلے کے مستقل حل کیلئے لوگوں سے جڑنے کی ضرور ت ہے ،لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ،/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
ان میں اعتماد بحال کیا جانا چاہیے اور انہیں یہ بھروسہ دلایا جائے کہ ان کے مشکلات کا ہر حال میں ازالہ کیا جائیگا جب اس طرح کے اقدامات اٹھائے جائیں گے تو صورتحال یکسر بدل جائیں گے ۔ کشمیر کے بارے میں موجودہ وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت اس مسئلے کو طاقت کی بنیاد پر حل کرنے کی خواہشمند ہے جس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے ہیں ۔ یو پی اے کے دور کو ملک اور ریاست جموں و کشمیر کیلئے بہتر قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ 2014میں جب میں کشمیر کے دورے پر گیا تو میں اس بات پر بہت افسردہ ہوا کہ ریاست میں ایک غلط سیاست اپنائی جا رہی ہے اور برسوں سے ریاست کے بارے میں غلط فیصلے بھی لئے جا رہے ہیں ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ کشمیر کے معاملے میں سنجیدگی ،دور اندیشی اور موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تب جا کر امن بھی بحال ہو گا اور لوگوں میں اعتماد بھی خود بخود پیدا ہوگا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں