بھارت کی کئی ریاستوں میں مجسمے توڑنے کی مہم ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اظہار تشویش، مرکز سے فوری کارروائی کی اپیل

سرینگر/اے پی آئی /مجسموں کی بے حرمتی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے ممبر پارلیمنٹ ،نیشل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں ،اس طرح کے واقعات ملک کیلئے بہت بڑا چیلنج ہیں ۔ ڈاکٹر بھیم را امبیدکر اور ماتما گاندھی کے علاوہ دوسری کئی قدآور شخصتیوں کے مجسموں کی بے حرمتی کو ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے تلقین کی کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جا نی چاہیے تاکہ ملک کو ایک بہت بڑے خطرے سے بچایا جا سکے ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جن قد آور شخصیتوں نے ملک کیلئے بہت کچھ کیا ہے ان کے مجسموں کی بے حرمتی کرنا کسی بھی جمہوری ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی عمل میں لائے بلکہ ان وجوہات کا بھی پتہ لگایا جائے کہ اس طرح کے واقعات کیوں پیش آرہے ہیں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’’بھاجپاکی انتخابی کامیابیوں کے بعدمجسمہ توڑمہم /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
‘‘کے چلتے’’آزادی ہندکے محرک گاندھی اورآئین کے خالق امبیدکرکے مجسمے مسمار‘‘کردئیے گئے جبکہ اسے پہلے لینن،پیری یاراورشیاماپرسادمکھرجی کے مجسمے بھی توڑے گئے ۔حال ہی میں بھارتیہ جنتاپارٹی کو تین شمال مشرقی ریاستوں تری پورہ ،ناگالینڈاورمیگھیالیہ میں ملی انتخابی کامیابیوں کے بعدسے شمال مشرقی اورجنوبی ہندکی ریاستوں میں مجسمے توڑمہم چھڑگئی ہے ۔اس کاآغازتری پورہ سے ہواجہاں کچھ روزقبل مبینہ طورپربھاجپاکارکنوں نے اپنی پارٹی کی الیکشن جیت کے بعدیہاں دہائیوں سے نصب جدید روس کے معمار ولادی میر لینن کے مجسمے کو5مارچ کے دن بلڈوزرسے مسمارکردیاگیا۔دائیں بازئوکی جماعتوں سے وابستہ کارکنوں کی اس اشتعال انگیزی کے بعدبائیں بازئوکی جماعتوں کے کارکن بھی میدان میں آگئے اورانہوں لینن کامجسمہ مسمارکرنے کیخلاف بطورردعمل تمل ناڈئواورمغربی بنگال میں معروف سماجی کارکن پیری یاراورآرایس ایس کے بانی شیاماپرسادمکھرجی کے مجسموں کومسمارکردیا۔وزیراعظم ہندنریندرامودی کی جانب سے مجسمے مسماروں کیخلاف سخت کارروائی کاانتباہ کئے جانے اورمرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے متاثرہ ریاستوں کی حکومتوں کوسخت ہدایات دئیے جانے کے ایک روزبعدمجسمہ توڑمہم نے اسوقت افسوسناک موڑلیاجب کچھ شرپسندوں نے کیرلاکے کنورعلاقہ میں جمعرات کوعلی الصبح 7بجے مہاتماگاندھی کے نصب مجسمے کے شیشے اورہارتوڑڈالے ۔ابھی کیرلامیں گاندھی کامجسمہ مسمارکئے جانے کی بازگشت سنائی دے رہی تھی کہ ریاست نمل ناڈوکی راجدھانی چنائی میں آئین ہندکے خالق بی آرامیبدکرکے نصب مجسمے کوروغن لگاکرمسخ کیاگیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں