شمالی کوریا کی پیشکش جھوٹی امید بھی ہو سکتی ہے :ٹرمپ

واشنگٹن/7مارچ ﴿رائٹر﴾ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو کافی مثبت بتایا ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ یہ جھوٹی امیدبھی ہو سکتی ہے ۔ جنوبی کوریا نے کل کہا کہ شمالی کوریا امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہے اور جوہری ٹیسٹ ملتوی کرنے کو بھی تیار ہے ۔ مسٹر ٹرمپ نے اس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت دکھائی دے رہی ہے ۔کئی برسوں میں پہلی بار، سبھی فریق کی جانب سے ایک سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے اور انتظار کر ر ہی ہے ! جھوٹی امیدیں ہوسکتی ہیں، لیکن امریکہ کسی بھی سمت میں سخت اقدامات کرنے کے لئے تیار ہے ۔ جنوبی کوریا کے وفد کے سربراہ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ شمالی اور جنوبی کوریا ایک دہائی کے بعد اگلے مہینے میں سرحدی گاؤں پین منجوم میں اپنی پہلی میٹنگ کریں گے ۔ وفد نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس سے پہلے مسٹر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہاہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے !دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد جنوبی کوریا نے بتایا کہ شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اگر اسے تحفظ کی ضمانت دی جائے تو وہ اپنے جوہری ہتھیار بھی چھوڑنے کو تیار ہے ۔ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں کم جونگ نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے قومی سلامتی کے مشیر چنگ یی یونگ سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی تھی۔
جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے ٹیسٹ پر روک لگانے پر اتفاق کیا ہے ۔ مسٹر چنگ یی یونگ نے کل بتایا کہ شمالی کوریا اپنے اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے امریکی انتظامیہ سے بات کرنے کو بھی تیار ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں