ایس او پی پر عملدرآمد اور وزارت داخلہ کی سیکورٹی ایڈوائزری

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وادی میں رونما ہوئے حالیہ واقعات کا مرکزی وزارت داخلہ نے سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور جنگجو نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے نمٹنے کیلئے سخت احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق کشمیرمیں موجودہ نازک سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر مرکزی وزارت داخلہ نے وادی میں تعینات تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹیوںکے دوران انتہائی چوکس رہیں اور مزید چوکسی برتیں۔ وزارت داخلہ کو خدشہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے جنگجویانہ سرگرمیوں میںجو غیر معمولی طور پر اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ عسکریت پسند آنے والے دنوں میں سیکورٹی فورسز پر مزید حملے کرسکتے ہیں۔ ذرایع کے مطابق ان خدشات کے پیش نظر ریاست میں باالعموم اور سرینگر اور جموں میں بالخصوص تعینات فورسز اور پولیس ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈیوٹی کے دوران انتہائی محتاط رہیں تاکہ اس قسم کے تشدد کے واقعات رونما نہ ہونے پائیں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے یہ ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں کہ سیاسی رہنمائوں اور وزیروں وغیرہ کو بھی باہر جاتے وقت زبردست احتیاط برتنی چاہئے تاکہ عسکریت پسندوں کو ان پر حملہ کرنے کا موقعہ نہ مل سکے ان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باہر جاتے وقت بلٹ پروف گاڑیوں کااستعمال کریں۔ اتوار 4مارچ کو شوپیان کے پہنو گائوں میںپیش آئے ہوئے واقعے میں دو جنگجو اور چار عام شہری جان بحق ہونے کے بعد پوری وادی میں پھر سے صورتحال پر تنائو ہوگئی ہے۔ کل یعنی بدھ 7مارچ کو مزاحمتی قیادت کی طرف سے شوپیان چلو کی کال دی گئی تھی جس کے نتیجے میں پوری وادی میں روزمرہ کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ انتظامیہ نے اگرچہ پہلے ہی سکول کالجوں میں کل تک تعطیل کا اعلان کیا تھا لیکن آج سے پھر دو دن تک وادی میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا علان کیا گیا جبکہ جنوبی کشمیر میں سنیچرکو بھی سکول کالج بند رہیںگے۔ اس کے باوجود اگر حالات پھر سے بگڑ جائینگے تو آگے نہ جانے کیا ہوگا۔ جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقے میں اس دوران ایک اور جنگجو مارا گیا اسطرح گذشتہ چار پانچ دنوں کے دوران سات نوجوان جاںبحق ہوئے اور اسی بنا پر مرکزی وزارت داخلہ نے ایڈوائیزری جاری کی۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی ایک خصوصی اجلاس بلایا جس میں امن و قانون کی صورتحال پر غور کیا گیا اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والی مختلف ایجنسیوں کے افسروں کو ہدایت دی کہ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹتے وقت ایس او پی یعنی سٹنڈرڈ اوپریٹنگ پروسیجر پر عمل کریں۔ وزیر اعلیٰ کا یہ فرمانا درست کہ فورسز کو ایس او پی پر عمل پیرا ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے کیونکہ اس سے قبل متعدد مرتبہ وزیر اعلیٰ نے فورسز کو یہ ہدایت دی کہ وہ ہر صورت میں ایس او پی پر عمل کریں اور کوئی ایسی کاروائی نہ کریں جس سے شہری ہلاکتوں کا خدشہ باقی رہے لیکن ہر بار ان کے احکامات کے باوجود شہری ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں۔اسی سے حالات بگڑجاتے ہیں اور پھر حکومت کیلئے امن و قانون کی صورتحال پرقابو پانا مشکل بن جاتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں