آٹھ سالہ معصوم بچی کے خون آلودہ کپڑوں کو دھوکر صاف کیاگیا

کٹھوعہ پولیس کی طرف سے ثبوت مٹانے کی کوششوں کا انکشاف ، ڈی جی نے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کایقین دلایا
سرینگر/جے کے این ایس /کٹھوعہ میں 8سالہ بچی کے قتل نے اُس وقت نیا موڑ لیا جب کرائم برانچ نے پولیس سربراہ کو تحریری طورپر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ نجی نیوز چینل نے کرائم برانچ کے سینئر آفیسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مقتول بچی کے کپڑوں پر لگے خون کے دھبوںکو مقامی پولیس نے مٹایا ہے۔ کٹھوعہ میں ایس پی او کے ہاتھوں آٹھ سالہ گوجر طبقہ سے وابستہ بچی کی عصمت ریزی کے بعد اُس کو بھیانک طریقے سے قتل کرنے کے بعد حکومت نے کیس کرائم برانچ کے سپرد کیا۔نمائندے کے مطابق کرائم برانچ نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل میں ملوث دو ایس پی اوز کی گرفتاری عمل میں لاکر انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ نجی نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے سینئر پولیس آفیسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کرائم برانچ نے پولیس چیف ڈاکٹر ایس پی وید کو تحریری طورپر آگاہ کیا ہے کہ مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹانے کی کوششوںمیں مصروف ہے۔ پولیس سربراہ کو بتایا گیا آصفہ نامی آٹھ سالہ لڑکی کے کپڑوں پر لگے خون کے دبھوں کو بھی مٹایا گیا ہے اور اس طرح سے مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹا رہی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے پولیس چیف ڈاکٹر ایس پی وید کو تحریری طورپر آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ جہاں پر واقع رونما ہوا پولیس اُس جگہ کو محفوظ نہ کر سکی ۔ رپورٹ کے مطابق کرائم برانچ کی جانب سے سنسنی خیز انکشافات کرنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جار ہی ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق چونکہ اب کرائم برانچ نے خود کہا کہ مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹانے کی کوششوںمیں لگی ہوئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملوث ایس پی او ز کو بچانے کی کوشش کی جار ہی ہیں ۔ پولیس چیف پر فرض بنتا ہے کہ وہ کٹھوعہ میں تعینات پولیس آفیسروں کا فوری تبادلہ کرکے اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیںجائے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس چیف نے کرائم برانچ کو بتایا کہ ملوث پولیس آفیسروں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ پولیس چیف کے مطابق جو کوئی بھی پولیس آفیسر یا اہلکار ثبوتوں کو مٹانے کے ضمن میں ملوث قرار پائے اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں