مزاحمتی قیادت کی طرفسے شوپیان جانے کی کوششیں میرواعظ رہائش گاہ کے باہر گرفتار، گیلانی صاحب کو روکاگیا

سرینگر/متحدہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے شوپیاں قتل عام کیخلاف اظہار یکجہتی اور کشمیری سیاسی اسیران کو بیرون وادی منتقل کرنے کیخلاف دیئے گئے پروگرام کی پیروی میں حریت کانفرنس کے محبوس چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے اپنی خانہ نظر بندی اور کرفیو کی بندشوں کو توڑ کر جب شوپیاں جانے کی کوشش کی تو رہائش گاہ کے باہر پولیس اور فورسز کی ایک بھاری جمعیت نے موصوف کو درجنوں کارکنوں سمیت گرفتار کرکے مقامی تھانے میں بند کردیا گیا۔گرفتاری سے قبل وہاں موجود میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے سرکاری فورسز کے طرز عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے معصوم شہریوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین جارحیت قرار دیا۔ میرواعظ نے کہا کہ اس قتل عام میں براہ راست ریاستی حکومت ذمہ دار ہے ،انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسزنے اپنے کو حاصل بے پناہ اختیارات کے بل پر کشمیر کو ایک/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 قتل گاہ میں تبدیل کردیا ہے اور CASO کے تحت ہر چہار سو نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر سرزمین کشمیر کو لالہ زار بنایا جارہا ہے۔میرواعظ نے کہا کہ کشمیر سے جب تک کالے قوانینBlack Laws خاص کر AFSPA وغیرہ کالعدم قرار نہیں دئے جاتے اور فورسز کو جوابدہی(Accountability)  کا پابند نہیں بنایا جاتا معصوم کشمیریوںکا خون بہتا رہیگا۔سرکاری دہشت گردی بند کرو ، قتل عام بند کرو، شوپیاں کے قاتلوں کو سزا دو ،سیاسی نظربندوں کو رہا کرو کے نعروں کے بیچ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر کے حالات دن بہ دن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور معصوم کشمیریوں کے قتل عام میں ریاستی حکومت براہ راست ذمہ دار ہے ۔ کشمیریوںکو کسی سے بھی انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد enquiry commission بٹھانے کے اعلانات محض فریب اور دھوکہ ہے اور جن کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مناسب ہے کہ محبوبہ مفتی اسمبلی میں اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پارلیمنٹ میں یہ اعلان کریں کہ کشمیریوں کو کہیں سے بھی کوئی انصاف ملنے والا نہیں ہے اور کشمیریوں کیلئے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے دروازے انصاف کیلئے بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہاں آمریت اور بربریت کا دور دورہ اور راج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ ۸ ہفتوں کے دوران ۳۱ سے زیادہ کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا ، کشمیریوں کا خون پانی سے زیادہ سستا ہو چکا ہے، سرکاری فورسز میں جواب دہی کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پرسان حال ہے ۔انہوں نے کہا کہ شوپیاں میں ہی گزشتہ خونین سانحہ کے حوالے سے ریاستی حکومت کا قتل میں ملوث ملزمان کے تئیں بیانات عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے جو حد درجہ افسوسناک ہے ۔ادھرچیرمین حریت سید علی گیلانی کو 7/مارچ 12:15بجے اس وقت نے روک لیا ، جب انہوں نے گھر میں نظربندی کے باوجود مجوزہ شوپیان چلو پروگرام میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ سے باہرنکلنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان کا راستہ روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی، جبکہ شوپیان جلو پروگرام کو ناکام بنانے کے پولیس نے حریت کانفرنس کے لیے جن لیڈروں اور کارکنوں کو گھروں اور تھانوں میں نظربند کردیا ہے ان میں محمد اشرف صحرائی، حاجی غلام نبی سمجھی، غلام احمد گلزار، حکیم عبدالرشید، بلال صدیقی،محمد یوسف مکرو،محمد اشرف لایا، عمر عادل ڈار، سید امتیاز حیدراور خواجہ نزیر احمد شامل ہیں۔ حریت کانفرنس نے انتظامیہ اور پولیس کی اس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو غیر جمہوری طرز کی غنڈہ گردی قرار دیا اور کہا کہ جموں کشمیر بھارت کی ایک فوجی کالونی ہے اور یہاں صرف اور صرف بندوق کا راج قائم ہے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے حریت چیرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہوئے شہدائ کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہم نے آج شوپیان جانے کا پروگرام بنایا تھا اور میں اپنے گھر جسے قید خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے سے باہر آیاتو پولیس نے ہمارا راستہ روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کی اس کارروائی کو غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ظلم وجبر اپنی اتنہا پر پہنچ چکا ہے اور ایک طرف ہمارے معصوم نوجوانوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور دوسری طرف ہمیں اس قتلِ عام پر ماتم کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین کو ایک منصوبہ بند طریقے پر قتل کردیا جارہاہے اور یہاں کی ریاستی حکومت لوگوں کو تحفظ فراہم کرانے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ جہاں معصوم لوگوں کے مال وجان کا تحفظ نہ ہو، وہاں سڑکیں، پل اور دیگر مراعات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں