لوک سبھا کی کارروائی دوسرے دن بھی ملتوی بینک گھوٹالے پر اپوزیشن کا ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی

نئی دہلی/ 6مارچ ﴿یو این آئی﴾ کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں اور حکمراں جماعت کی کچھ حلیف جماعتوں کی طرف سے الگ الگ معاملات پر زبردست ہنگامہ کی وجہ سے لوک سبھا میں آج مسلسل دوسرے دن بھی کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کرنی پڑی۔ایک بار ملتوی کے بعد ایوان کی کارروائی بارہ بجے سے شروع ہونے کے چند منٹ پہلے سے ہی مختلف پارٹیوں کے اراکین اسپیکر کی نشست کے قریب پہنچ چکے تھے اور اسپیکر سمترا مہاجن کی سیٹ پر بیٹھنے سے پہلے ہی انہوں نے نعرے بازی شروع کردی تھی۔ محترمہ مہاجن نے ہنگامہ اور نعرے بازی کے درمیان ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھوائے ۔ سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس اور ترنمول کانگریس کے اراکین جہاں پبلک سیکٹر کے بینکوں میں ہزاروں کروڑ روپے کے گھپلے پر نعرے بازی کررہے تھے وہیں وائی ایس آر کانگریس اور حکمراں این ڈی اے اتحاد کی حلیف تیلگو دیسم پارٹی کے اراکین آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے مطالبہ پر زور دینے کے لئے ہاتھوں میں بینر اور تختیا ں اٹھاکر ہنگامہ کررہے تھے ۔ این ڈی اے میں شامل شیو سینا بھی آج ہنگامہ میں شریک ہوئی اور اس کے اراکین مراٹھی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ انا ڈی ایم کے کے اراکین کاویرن مینجمنٹ بورڈ تشکیل دینے اور تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے رکن تلنگانہ میں ریزرویشن کوٹہ بڑھانے کے مطالبے پر شو ر شرابہ کررہے تھے ۔ دریں اثنائ اپوزیشن اراکین نے پبلک سیکٹر کے بینکوں میں گھوٹالوں، کاویری مینجمنٹ بورڈ کے قیام اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے مسائل پر آج مسلسل دوسرے دن راجیہ سبھا میں جم کر ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی تیسری بار ساڑھے تین بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں