ہلاکتوں کے واقعات پر سرکار کا موقف ، ہلال وار کا شدید رد عمل

سرینگر/ شہری ہلاکتوں کے واقعات پرحکومتی اپروچ کوغلامانہ قراردیتے ہوئے حریت﴿ع﴾کے سینئرلیڈرانجینئرہلال وار نے کہاہے کہ شوپیان ہلاکتوں کے معاملے پرریاستی سرکارکاسرنڈرشرمناک ہے ۔انہوں نے مین اسٹریم جماعتوں اورلیڈروں کوبے بس ولاچارقراردیتے ہوئے پی ڈی پی اوراین سی ممبران اسمبلی کوعزت کی خاطر مستعفی ہونے کامشورہ دیا۔ حریت﴿ع﴾ کی ایک اہم اکائی پیپلزپولٹیکل پارٹی کے چیئرمین انجینئرہلال احمدوارنے ضلع شوپیان کے گنوپورہ علاقہ میں 27جنوری کوفوج کی فائرنگ کے نتیجے میں تین عام شہریوں کی ہلاکت کے سلسلے میں درج ایف آئی آرکے معاملے پرسپریم کورٹ میں ریاستی سرکارکی جانب سے دئیے گئے بیان کہ ایف آئی آرمیں 10گروال کے میجرآدتیہ کانام شامل نہیں کیاگیا،کوشرمناک قراردیتے ہوئے کہاکہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کومنطقی انجام تک پہنچانے کامحبوبہ مفتی نے اسمبلی کے اندراورباہرخوب ڈھنڈورہ پیٹاتھالیکن اب اُنکی سرکارنے اس معاملے پریوٹرن لیتے ہوئے فو ج کے سامنے پھرسرنڈرکیا۔انجینئرہلال وارنے کہاکہ جوفوجی اورفورسزاہلکاراورافسرمعصوم کشمیریوں کوموت کی نیندسلادینے کے ساتھ ساتھ کشمیری نوجوانوں اوربچیوں کی آنکھیں اوربینائی چھین لینے کاارتکاب کررہے ہیں ،انکوقانونی کارروائی سے مستثنیٰ رکھناغیرجمہوری یاغیرقانونی ہی نہیں بلکہ غیرانسانی عمل بھی ہے ،اوردنیاکی کوئی مہذب قوم اس کی حمایت نہیں کرتی لیکن بقول پی پی پی چیئرمین ریاست کی مین اسٹریم سیاسیات میں سرگرم جماعتیں اوران سے وابستہ لیڈران اس شرمناک عمل کاساتھ نبھاتے آرہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ریاستی حکمرانوں کاسرنڈراورعدالت عظمیٰ کی جانب سے شوپیان ہلاکتوں کی تحقیقات پر24اپریل تک روک لگائے جانے سے صاف ظاہرہوتاہے کہ بھارتی اداروں کے سامنے ریاستی سرکارکی کوئی وقعت ہی نہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں