جموںو کشمیر ہائی کورٹ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے 4معاملات کی کارروائی انجام دی گئی

سرینگر/اپنی نوعیت کی اولین پہل کے تحت جموںوکشمیرہائی کورٹ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے چار معاملات کی کارروائی انجام دی۔ اس طرح ریاست میںاعلیٰ عدلیہ کے نظام میں انتہائی بدلائو لایا گیا ۔جسٹس محمد یعقوب میر نے آج جے اینڈ کے ہائی کورٹ میں دو معاملات کے سلسلے میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے فیصلہ سنایا جب کہ عدالت کی طرف سے اُٹھائے گئے گئے چار معاملات میں سے ایک معاملے کو آرڈر کے لئے ریزرو رکھا گیا۔لیہہ اورکرگل کے چار معاملات کا تعلق لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل سے تھا جس کی نمائندگی سرینگر میںکونسل آصف مقبول نے کی،اس معاملے سے جُڑی پارٹیوں نے ڈی سی آفس کرگل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کارروائی میں شرکت کی۔کرگل میں ویڈیوکانفرنسنگ کی جگہ پر ایس کے بھگت ڈپٹی کمشنر کرگل اورصدر بارایسوسی ایشن کرگل میں بھی موجود تھے۔اس موقعہ پر جسٹس محمد یعقوب میر نے کہا کہ عدالتی کارروائی کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انجام دینے کا عمل عدلیہ کے نظام میں ایک نیا سنگ میل ہے جس سے ریاست کے دوردراز لوگوں کو انصاف فراہم ہوسکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ مستقبل میں اس سہولیت سے لیہہ ،کرگل اور گریز جیسے دوردراز علاقوں سے لوگ اپنا نکتہ نگاہ سامنے رکھ سکتے ہیں۔جسٹس محمد معقوب میر نے مزید کہا کہ چیف جسٹس نے پہلے ہی لیہہ اورکرگل کے بار کو ایسی عدالتی کارروائیاں جن کا تعلق لیہہ اورکرگل سمیت دوردراز علاقوں سے ہو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انجام دینے کی ہدایت دی ہے۔جسٹس محمد یعقوب میر نے چیف جسٹس آف جے اینڈ کے ہائی کورٹ جسٹس بدردریز کی ویڈیوکانفرنسنگ سہولیت کو کم مدت میں ہی قابل عمل بنانے کے لئے اُن کی ستائش کی۔سرینگر میں درجنوں وکلأ اورعدالتی عملے نے بھی کاروائی کا مشاہدہ کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں