شہری ہلاکتیں اورامن و قانون کی صورتحال

شوپیاں سانحے کے نتیجے میں وادی کے ماحول میں ایک گھٹن سی محسوس کی جارہی ہے۔ اگرچہ شوپیان میں شہری ہلاکتوں کے بعد شہر سرینگر میں کل یعنی منگل 6مارچ کو دوبارہ دکانیں کھل گئیں اور روز مرہ کی زندگی بحال ہوگئی لیکن اس کے باوجودخوشگوار ماحول بھی نہیں ہے۔ جنوبی کشمیر میں کل تیسرے دن بھی زندگی مفلوج رہی ہے دکانیں کاروباری ادارے اور بنک دفاتر بھی بند ہیں جبکہ حکومت نے پہلے ہی سکول کالج دودنوں تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکار نے یہ قدم امن و قانون کی صورتحال بر قرار رکھنے کیلئے اٹھایا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اگر وادی میں سکول کالج کھلے رکھے جائیں تو کہیں نہ کہیں گڑبڑ ہوسکتی ہے اسی لئے تعلیمی ادارے بند کئے گئے جو اب کل کھلیں گے۔ جنوبی کشمیر میں صورتحال پر تنائو ہے اور کل بھی مختلف مقامات پر لوگوں نے احتجاج کیا لوگ شہری ہلاکتوں پر اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے تھے۔ پہنو شوپیان میں اگر شہری ہلاکتیں نہیں ہوتیں تو حالات اس حد تک نہیں بگڑ جاتے لیکن شہری ہلاکتوں کی وجہ سے ہی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ماضی میں دیکھا جاچکا ہے کہ جب بھی شہری ہلاکتیں ہوئیں ان کے بعد ہی لااینڈ آرڈر کی پرابلم پیدا ہوگئی اور اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ اگر شہری ہلاکتیں نہ ہوئی ہوتیں تو حالات میں اس قدر تنائو پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ قارئین کرام کو یا د ہوگا کہ وزیر اعلیٰ جو یونیفائیڈ کمانڈ کی چیئرپرسن ہیں نے اس کی پچھلی میٹنگ میں فوجی اور نیم فوجی دستوں پر زور دیا تھا کہ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹتے وقت شہری ہلاکتوں سے بچا جانا چاہئے اور کم سے کم طاقت کا استعمال کیاجانا چاہئے لیکن پہنو میں ان احکامات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اندھا دھند فائیرنگ کی گئی جس نے چار عام شہریوں کی زندگیاں ان سے چھین لیں۔ اب ان ہلاکتوں کو حق بجانب قرار دینے کیلئے فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کرے گی کہ آیا ان کا تعلق جنگجو نوجوانوں سے تھا یا نہیں۔ اگر وہ تین بقول فوجی ترجمان اسی گاڑی میں سوار تھے جس میں جنگجو بھی سوار تھا تو اس اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کا کیا قصور تھا جو اپنی گاڑی میں اسی راستے سے جارہاتھا اور جسے گولیوں کا نشانہ بناکر ابدی نیند سلادیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے واضح احکامات کے باوجود اس قسم کا واقعہ رونما ہونا اچھنبے کی بات ہے اور اس پرجتنا افسوس کیاجائے کم ہے۔ اسلئے وزیر اعلیٰ کو اس بات کا جائیزہ لینا چاہئے کہ کیا کہیں ایسے عناصر تو موجود نہیں جو حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور جن کو معلوم ہے کہ شہری ہلاکتوں سے خرمن امن میں آگ لگ سکتی ہے اسی لئے وہ اسی طرح کی کاروائیاں کررہے ہیں۔ اس وقت حکومت کو اس بارے میں سخت موقف اختیار کرنا چاہئے اور فورسز پر یہ بات واضح کردینی چاہئے شہری ہلاکتیں نا قابل برداشت ہیں اور جو کوئی بھی اس میں ملوث ہوگا اس کیخلاف سنگین کاروائی کی جائے گی۔ لوگ بھی چاہتے ہیں کہ شہری ہلاکتیں کسی بھی صورت میں نہ ہونے پائیں کیونکہ اسی سے بعد میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس کے کسی بھی صورت میں مثبت نتایج برآمد نہیں ہوتے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں