جنوبی کشمیر میں تیسرے روز بھی زندگی درہم برہم

سرینگر/نیاز حسین /کے این ایس /جنوبی کشمیرمیں متواتر تیسرے روزمکمل ہڑتال کے بیچ شوپیان چلوکال کے پیش نظربدھ کے روزحساس علاقوں میں بندشیں عائدرہیں گی ۔اس دوران شہرخاص میں اُسوقت تنائوکی صورتحال پیداہوئی جب نوجوانوں نے سڑکوں کی ناکہ بندی کی ،اورپولیس وفورسزکے آتے ہی نوجوان مشتعل ہوگئے اورانہوں نے سنگباری شروع کردی جبکہ آرمی کیمپ ہٹانے کی مانگ کرتے ہوئے شوپیان میں پنجورہ اورپہنوکے لوگوں نے زورداراحتجاج کیا۔اُدھرشوپیان قصبہ میں ڈی سی آفس کے نزدیک مشتعل مظاہرین اورفورسزکے درمیان سنگباری اورآنسوگیس کے گولوں کاتبادلہ ہوا۔اس دوران شوپیاں ،/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
پلوامہ ،کولگام اوراسلام آبادکے بیشترعلاقوں میں منگل کے روزمعمول کی سرگرمیاں مفلوج رہیں جبکہ ریلوے حکام نے احتیاطی طورپردوسرے روزبھی ریل سروس کومعطل رکھاجبکہ جنوبی کشمیرمیں موبائل انٹرنیٹ خدمات پرقدغن جاری رہا۔اس دوران اسلامک یونیورسٹی نے بدھ یعنی7مارچ کولئے جانے والے امتحانات کوملتوی کردیاجبکہ بورڈآف اسکول ایجوکیشن ،کشمیریونیورسٹی اورپبلک سروس کمیشن نے پہلے ہی 7مارچ کولئے جانے والے امتحانات ملتوی کردئیے ہیں ۔ اتوارکی شام پہنوشوپیان میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 2مقامی جنگجوئوں اور4معصوم نوجوانوں کے ازجان ہوجانے کیخلاف شوپیان سمیت جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع میں متواترتیسرے روزبھی معمول کی سرگرمیاں متاثررہیں ۔شوپیان ،پلوامہ ،کولگام اوراسلام آباداضلاع کے قصبہ جات اوردیگرعلاقوں میں بازاراورکاروباری مراکزبندرہے جبکہ بیشترشاہراہوں اورسڑکوں سے مسافرگاڑیاں غائب رہیں ۔ادھر ریلوے حکام نے احتیاطی طورپردوسرے روزبھی ریل سروس کومعطل رکھاجبکہ جنوبی کشمیرمیں موبائل انٹرنیٹ خدمات پرقدغن جاری رہا۔ریلوے حکام نے بتایاکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرمنگل کے روزبھی ریلوے سروس معطل رکھی گئی ۔انہوں نے کہاکہ بدھ کے روزبھی ریل سروس بندرہے گی ۔اُدھرجنوبی کشمیرمیں متواتردوسرے روزبھی موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رہی ۔اس دوران بڑی تعدادمیں لوگوں نے تین روزقبل جاں بحق ہوئے مقامی عساکراورنوجوانوں کے آبائی علاقوں کارُخ کرکے غمزدہ کنبوں کیساتھ ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکیا۔تاہم شہرسر ینگرسمیت وسطی اورشمالی کشمیرمیں حالات معمول پرآگئے اورمنگل کے روزسری نگر،گاندربل ،بڈگام ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ اورکپوارہ میں بازارمعمول کے مطابق کھلے رہے اورسڑکوں پرہرطرح کی گاڑیوں کی آواجاہی معمول کے مطابق جاری رہی ۔تاہم مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے بدھ کوشوپیان چلوکال کے پیش نظرحکام نے سری نگرشہراورجنوبی کشمیرکے سبھی حساس علاقوں اورمقامات پردفعہ144کے تحت سخت بندشیں عائدرکھنے کافیصلہ لیاہے ۔معلوم ہواکہ منگل کے روزسری نگراورجنوبی کشمیرکے چاروں اضلاع میں سیول ،پولیس اورفورسزحکام نے الگ الگ میٹنگوں کے دوران حالیہ شہری ہلاکتوں سے پیداشدہ صورتحال اورمزاحمتی لیڈرشپ کی جانب سے ان ہلاکتوں کیخلاف دئیے گئے پروگرام کاجائزہ لیا،اورفیصلہ لیاگیاکہ بدھ کے روزشہرخاص سری نگراورجنوبی کشمیرکے حساس علاقوں میں دفعہ144کے تحت بندشیں عائدکی جائیں۔بتایاجاتاہے کہ بندش زدہ علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظربڑی تعدادمیں پولیس اورفورسزکے دستوں کی تعیناتی عمل میں لائی جائیگی ۔اس دوران آرمی کیمپ ہٹانے کی مانگ کرتے ہوئے شوپیان میں پنجورہ اورپہنوکے لوگوں نے زورداراحتجاج کیا۔اُدھرشوپیان قصبہ میں ڈی سی آفس کے نزدیک مشتعل مظاہرین اورفورسزکے درمیان سنگباری اورآنسوگیس کے گولوں کاتبادلہ ہوا۔ 2جنگجوئوں اور4نوجوانوں کی ہلاکت کیخلاف شوپیان ضلع میں جاری ہڑتال کے بیچ منگل کی صبح پنجورہ کے مہلوک نوجوان سہیل خلیل وگے کے غمزدہ اہل خانہ کیساتھ اظہارہمدردی کیلئے آئے لوگوں نے اس علاقہ میں قائم ایک فوجی کیمپ کوہٹانے کامطالبہ کرتے ہوئے زورداراحتجاج کیا۔پہنو،پنجورہ اوردیگرنزدیکی دیہات کے لوگ بڑی تعدادمیں یہاں جمع ہوئے اورانہوں نے آرمی کیمپ ہٹانے کی مانگ کولیکرآوازبلندکی ۔خیال رہے اتوارکی شام پہنوشوپیان میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 4عام شہری اور2مقامی جنگجونوجوان جاں بحق ہوگئے تھے ،اوران ہلاکتوں کیخلاف ضلع شوپیان میں تیسرے روزبھی ہڑتال جاری رہی ۔اُدھرممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرقصبہ شوپیان میں تعینات پولیس وفورسزاہلکاروں کواسوقت حرکت میں آناپڑاجب یہاں مشتعل نوجوانوں نے ڈی سی آفس کے قریب سنگباری شروع کردی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ احتجاجی نوجوانوں کومنتشرکرنے کیلئے سیکورٹی اہلکاروں نے آنسوگیس کے گولے داغے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں