محبوبہ مفتی نے سیکورٹی اور امن وقانون کی صورتحال کا جائزہ لیا

 ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے، جانی و مالی نقصان کو کم کرنے اور عوامی رابطے کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا
سرینگر/وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے افسروں کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران ریاست میں سلامتی اور امن و قانون کی صورتحال کا جائز ہ لیا۔میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے تمام سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ آپسی تال میل کے ساتھ کام/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 کر کے اس بات کو یقینی بنائیں کہ وضع کئے گئے سٹینڈنگ اوپریٹنگ پروسیجرس پر سختی سے عمل ہو اور کسی بھی صورت میں اس کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔انہوںنے کہا کہ اس میں کسی بھی طرح کی کوتاہی سے امن دشمن عناصر کے منصوبے کامیاب ہوسکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں کو ہدایت دی کہ وہ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ جانی اور مالی نقصان نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیئے کہ اس طرح کے اوپریشنوں کے دوران عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔محبوبہ مفتی نے سول ، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے حکام کو عوامی رابطہ زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کی تلقین کی تاکہ زمینی سطح پر عوامی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جاسکے ۔اس سے قبل مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں نے وزیر اعلیٰ کو ریاست بالخصوص وادی کی سلامتی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی۔چیف سیکرٹری بی بی ویاس ، 15ویں کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل اے کے بھٹ ، پرنسپل سیکرٹری داخلہ آر کے گوئیل ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل ، اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اے جی میر، ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر خان ، آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی کے علاوہ دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔اس سے پہلے وزیراعلیٰ آج پونچھ سے سرینگر پہنچی جہاں انہوںنے عوامی رابطہ پروگرام منعقد کیا تھا۔یہاں پہنچتے ہی 15ویں کور کے جی او سی نے وزیرا علیٰ کو حالیہ شوپیاں واقعے کے بعد وادی میں پیدا شدہ سلامتی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں