چین میں دفاعی اخراجات کیلئے دس کھرب یوان کا بجٹ

بیجنگ/5مارچ/چین نے آئندہ سال کے لیے دفاعی بجٹ کی مد میں دس کھرب یوان سے زیادہ یا 175 ارب ڈالر کی رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم گذشتہ برس سے آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعلان بیجنگ میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے دوران کیا۔ چین نے آئندہ سال کے لیے اپنی شرح نمو کا ہدف بھی 6.5فیصد مقرر کیا ہے۔ اس اجلاس میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی جانب سے ملک کے صدر کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ادوار کی شرط ختم کرنے کی تجویز کی منظوری کا بھی امکان ہے۔ کانگریس کی جانب سے اس تجویز کی منظوری کے بعد صدر شی جن پینگ چیئرمین ماؤ کے بعد سب سے طاقتور چینی رہنما بن جائیں گے۔ سوموارکو ہونے والے اس اجلاس میں ہزاروں قانون سازوں نے صدارتی ادوار کی شرط ختم کرنے کی تجویز کو سراہا۔ چین کی نیشنل پیپلز کانفرنس ایک طرح کی ربر پارلیمنٹہے جو عوماً کیمونسٹ پارٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتی ہے۔ نیشنل پیپلز کانفرنس کے ممبران کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے اور اْس میں چین کے تمام صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔ ان افراد کو بظاہر الیکشن کے ذریعہ چنا جاتا ہے لیکن انھیں نامزد کیمونسٹ پارٹی ہی کرتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ سال میں حکومت کے تین اہم اہداف ہیں۔ جن میں چین کے لیے مالیاتی خطرہ کو کم کرنا، آلودگی کو لگام دینا اور بڑھتی ہوئی غربت کو کم کرنا شامل ہیں۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم لی نے دفاعی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کو پتھر کی مانند مضبوطہونا چاہیے۔ چین کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافہ کو سٹریٹجک عزائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ چین دنیا کی سب سے بڑی فوج کو جدید بنا رہا ہے، ہمالیہ کے سرحدی علاقوں اور جنوبی چینی سمندر جیسے علاقوں میں انفراسٹرکچر تعمیر کررہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں