شوپیان میں فورسز فائرنگ سے ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 6ہوگئی

4عام شہریوں اور جنگجو نوجوانوں کی آخری رسومات میں ہزاروں لوگوں کی شرکت - شوپیان، پلوامہ، اننت ناگ، بڈگام، میں جھڑپیں، مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ
سرینگر/جے کے این ایس /شوپیاں میں مزید ایک عام شہری اور جنگجو کی نعشیں برآمد ہونے کے بعد شوٹ آوٹ میں مرنے والوں کی تعداد چھ تک پہنچ گئی ہے۔ مرنے والوں میں دو جنگجو اورچار عام شہری شامل ہیں ۔ دریں اثنا چار عام شہریوں اور دو جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کا سمندر دیکھنے کو ملا۔ معلوم ہوا ہے کہ شوپیاں ، پلوامہ میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے اگر چہ بندشیں عائد کی گئی تھی تاہم اس کے باوجود تین اضلاع سے آئے ہوئے لوگوں نے عام شہریوں اور جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ شوپیاں ، پلوامہ اور اننت ناگ میں دن بھرسیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس دوران فورسز نے کئی مقامات پر ہوائی فائرنگ کی ۔ گزشتہ شام پہنو شوپیاں میں سیکورٹی فورسز نے شوٹ آوٹ کے دوران ایک جنگجو اور تین عام شہریوں کو ہلاک کیا ۔ نمائندے کے مطابق شوٹ آوٹ کے بعد فوج نے تین عام شہریوں اور ایک جنگجو کی لاش کو تحویل میں لے کر بلہ پورہ فوجی کیمپ پہنچایا۔ معلوم ہوا ہے کہ پہنو شوپیاں سے دو سو میٹر کی دوری پر پر واقع گائوں سیدی پورہ میں سیب کے باغ سے جنگجو کی گولیوں سے چھلنی نعش برآمد ہوئی ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پہنو شوپیاں میں شوٹ آوٹ کے دوران عاشق حسین بٹ نامی جنگجو زخمی حالت میں فرار ہو گیا اور سیدی پورہ میں اُس کی موت واقع ہوئی ۔ ابھی سیدی پورہ شوپیاں میں جنگجو کی نعش برآمد ہونے کی خبر کانوں میں گونج ہی رتھی کہ پہنو شوپیاں سے ڈھائی سو میٹر کی دوری پر 22سالہ مقامی نوجوان گوہر احمد لون کی نعش برآمد ہوئی ۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان کی نعش گاڑی زیر نمبر JK01Q-1723میں پڑی ہوئی تھی اور اُس کے جسم میں چار گولیاں پیوست تھیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ رات ہی پہنو شوپیاں میں فورسز نے گوہر احمد نامی نوجوان کو بھی گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ گوہر احمد گھر کی طرف جا رہا تھا کہ پہنو شوپیاں میں شوٹ آوٹ کے دوران اُس کو بھی فورسز اہلکاروں نے نشانہ بنایا۔ گزشتہ روز فورسز کے ہاتھوں جاں بحق مقامی /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 نوجوان سہیل خلیل وگے ساکنہ پنجورہ ، محمد شاہد خان ساکنہ ملک گنڈ اور شہنواز احمد وگے ساکنہ ترنز شوپیاں اور مقامی جنگجو اعمر احمد ملک ساکنہ حرمین شوپیاں کی نعشیں شوپیاں اُن کے آبائی گائوں پہنچائی گئیں تو وہاں کہرام مچ گیا۔ نمائندے کے مطابق چار عام شہریوں اور دو جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے کو ملا۔ نمائندے نے بتایا کہ چار عام شہریوں اور دو جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کی شرکت کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ کم سے کم پانچ پانچ مرتبہ عام شہریوں اور دو جنگجوئوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔نمائندے کے مطابق سہ پہر چار بجے کے بعد آہوں ، سسکیوں کے بیچ چار عام شہریوں اور دو جنگجوئوں کو سپردلحد کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ کولگام شوپیاں، پلوامہ اور اننت ناگ اضلاع سے ہزاروں کی تعدا دمیں لوگ نجی گاڑیوں ، ٹریکٹروں کے ذریعے شوپیاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کے سیلاب کو روکنے کیلئے اگر چہ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں سیکورٹی فورسز کو چپے چپے پر تعینات کیا گیا تھا اور پلوامہ کے حساس علاقوں میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں مرد و زن، بوڑھے اور بچے شوپیاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور مقامی شہریوں اور دو جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ نمائندے نے بتایا کہ پہنو شوپیاں میں نماز فجر تک سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری رہی جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے سیکورٹی فورسز نے نہ صرف آنسوں گیس کا استعمال کیا بلکہ ہوائی فائرنگ بھی کی ۔ نمائندے کے مطابق شوپیاں ، ترال اور پلوامہ میں دن بھر مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں جس دوران سیکورٹی فورسز نے آنسوں گیس کا استعمال کیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ کریم آباد پلوامہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے تک ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کریم آباد پلوامہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ دریں اثنا افواہوں سے بچنے کیلئے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو پوری طرح سے معطل کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ شہری ہلاکتوں کے پیش نظر انتظامیہ نے مواصلاتی کمپنیوں کو جنوبی کشمیر میں موبائیل انٹرنیٹ پر فی الحال روک لگانے کے احکامات صادر کئے ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جونہی انہوں نے ہلاکتوں کی اطلاع سنی تو وہ گھروں سے باہر آئے اور واٹر ٹینکی کی طرف جانے لگے ، لیکن تب تک فوجی اہلکار وہاں موجود تھے اور اسی دوران پولیس بھی پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد کیمپ کی طرف جانے لگی لیکن فورسز و پولیس نے انہیں روکا جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں جو رات دیر گئے تک جاری رہیں۔مظاہرین اور فورسز میں پتھرائو، شلنگ، پیلٹ فائرنگ ہوئی، جس کے دوران کئی افراد کو چوٹیں آئیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ انہیں ہلاکتوں کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ہے کیونکہ پولیس کو کیمپ تک جانے کی مہلت ہی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن و قانون کی صورتحال قابو میں رکھنے پر مامور ہے اس لئے وہ مزید کچھ نہیں بتا سکتے۔ تاہم انہوں نے کہ انہیں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں