مشترکہ مزاحمتی قیادت کا لالچوک میں مظاہرہ ، یاسین ملک گرفتار 7/ مارچ بدھوار کو شوپیان چلو اورہڑتال کی اپیل

سرینگر/مزاحمتی قیادت کی طرف سے اخبارات کیلئے جاری کئے گئے بیان کے مطابق بھارتی فوج اور پولیس کی جانب سے شوپیان میں کیا گیا قتل عام جموں کشمیر میں بھارتی جمہوریت کا سفاک چہرہ واضح کررہا ہے۔آر ایس ایس کی پشت پناہی /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
میں قائم پی ڈی پی حکومت اور دوسرے ہند نواز سیاست کار اور انکی جماعتیں اس قتل عام کی اصل ذمہ دار ہیں۔ جموں کشمیر کے لوگ بدھوار مورخہ ۷/ مارچ ۸۱۰۲÷ئ کو شوپیان کے شہدائ کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے شوپیان کا رخ کریں گے جبکہ اسی دن حسبِ اعلان اسیروں کی سرینگر سے جموں منتقلی کے خلاف مکمل ہڑتال بھی کی جائے گی۔ ان باتوں کا اظہار مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے آج ایک مشترکہ بیان میں کیا ہے۔شوپیان قتل عام جس میں چھ کشمیری معصومین کو شہید جبکہ درجنوں کو زخمی کردیا گیا ہے کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے محمد یاسین ملک کی سربراہی میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین نے لال چوک سرینگر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی جس دوران محمد یاسین ملک کو بشیر احمد کشمیری، غلام محمد ڈار، محمد صدیق ہزاری،ساحل احمد وار، فاروق احمد شیخ وغیرہ کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔یاسین صاحب کو بعدازاں بشیر احمد کشمیری اور غلام محمد ڈار کے ساتھ ۰۱/ مارچ تک کیلئے عدالتی تحویل پر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے ۔یہ بات واضح رہے کہ علیل بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی حسب دستور خانہ نظر بند ہیں جبکہ پولیس نے کل شام سے قائد میرواعظ محمد عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی، محمد اشرف لایا،بلال احمد صدیقی وغیرہ کو خانہ نظر بند کردیا ہے جبکہ عمر عادل سمیت کئی دوسرے لوگوں کو گرفتار کرکے تھانوں میں مقید کردیا گیا ہے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین لوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں معززخواتین بھی شامل تھیں کے ہمراہ آج مائسمہ میں جمع ہوئیں جہاں سے انہوں نے قائد محمد یاسین ملک کی سربراہی میں لال چوک کی مارچ کیا۔ شوپیان قتل عام کے خلاف فلکشگاف نعرے بلند کرتا ہوا یہ جلوس جیسے ہی آگے بڑھا پولیس اور فورسز نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی جس پر شرکائے جلوس سخت مزاحمت کے بعد راستہ بدل کر بنڈ سے ہوتے ہوئے بڈشاہ پل سے ہوتے ہوئے بڈشاہ چوک پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔اس موقع پر پولیس اور فورسز نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یاسین صاحب اور دوسرے لوگوں کو گرفتار کیا اور جلوس کو تتر بتر کردیا۔ بھارتی فوج اور پولیس کی جانب سے شوپیان میں کئے گئے قتل عام جس میں چھ معصوم کشمیری شہید اور درجنوں زخمی کئے گئے ہیںکو بھارتی استعمار اور جبر کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمدیاسین ملک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بھارتی خون کے خوگر فوجی اور فورسز صرف اور صرف کشمیریوں کو سفاکانہ طریقے پر قتل کرنے کیلئے مامور ہیں جبکہ جملہ ہند نواز سیاست دان، انکی جماعتیں خاص طور پر آر ایس ایس کی حمایت یافتہ محبوبہ سرکار ان قاتلوں کو قانونی تحفظ دینے کیلئے مامور و متعین ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ اس قتل عام کیلئے یہ ہند نواز سیاست دان ،انکی جماعتیں اور سوچ براہ راست ذمہ دار ہیں اور مکافات عمل کے ابدی قانون کے تحت انہیں اپنے ان جرائم کا حساب دینا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہبھارتی قابضین کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات سرکاری کشمیر کو ایک ایسے ذبح خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں جوانوں، بچوں ،بزرگوں یہاں تک کی خواتین کی زندگیوں کو بھی بے دریغ چھینا جارہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ شوپیان کے شہدائ کو شایان شان طریقے پر خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے مشترکہ قیادت سے وابستہ قائدین کی سربراہی میں لوگ بدھوار مورخہ ۷/ مارچ ۸۱۰۲÷ئ کو شوپیان کی جانب مارچ کریں گے اور شوپیان میں ان شہدائ کیلئے اجتماعی دعائیہ مجلس میں شرکت کریں گے جبکہ اُسی دن حسب اعلان سابق کشمیری اسیروں خاص طور پر عمر قید کی سزا میں قید افرادکی سرینگر جیل سے جموں منتقلی کے خلاف بھی ایک مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال بھی کی جائے گی۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بدھوار مورخہ ۷/ مارچ کو مکمل ہڑتال بھی کریں اور شوپیان کی جانب مارچ کرکے معصوم شہدائ کو ان کے شایان شان خراج عقیدت بھی پیش کریں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں