فوجی میجر کا نا م کس طرح ایف آئی آر سے کاٹا گیا:ساگر

سرینگر /ریاستی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائیر کئے گئے اس حلفی بیان پر نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوے کہا کہ یہ تعجب کا مقام ہے کہ اس وقت تک حکومت کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 شوپیان میں عام شہری ہلاکتوں کے سلسلے میں میجر آدتیہ کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا گیا لیکن اب سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ میں یہ کہا گیا کہ ایف آئی آر میں کسی بھی فوجی افسر کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے از خود اس بارے میں خلاصہ کیا تھا اور وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات کے بعد ہی میجر کا نا م ایف آئی آر میں درج کیا گیا تھا لیکن اب کس طرح کہا گیا کہ ایف آئی آر میں کوئی بھی نام درج نہیں ۔ساگر صاحب نے شوپیان ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا باعث افسوس ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں