امتحانی سیشن میں تبدیلی غور و فکر کا متقاضی

 ابھی حال ہی میں ریاستی وزیر تعلیم الطاف بخاری نے کہا کہ امتحانی شیڈول کو بدلنے کیلئے اعلی سطح پر تبادلہ خیال کیاجارہا ہے اور اس سلسلے میں ماہرین سے بھی صلاح مشورہ کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو عنقریب وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں لایا جائے گا اور پھر اس پرماہرین کی رائے بھی طلب کی جائے گی اور اگر ان کی طرف سے نومبر کے بجائے مارچ میں امتحانات لینے کی تجویز سامنے آتی ہے تو امتحانی شیڈول میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ کچھ دہائی قبل وادی کے موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر ماہر ین تعلیم نے نومبر سیشن کو امتحانات کیلئے موزوں قرار دیا تھا اور کہا کہ اس کے بعد طلبہ کو سرمائی ایام جب سکول کالج بند ہوتے ہیں نئے کلاس کی تیاریوں کا موقعہ ملتا ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن اب چونکہ تعلیم کے انداز بدل گئے۔ روائیتی لکٹری سے بنی ہوئی تختی، فارسی قلم ، بلیک بورڈ ، اردو نب، سیاہی کا استعمال، وغیرہ سب کچھ ختم ہوگیا اور ان کی جگہ بال اور جل پین نے لے لی۔ سیاہی کا استعمال ختم ہوگیا اور اس کے ساتھ بلاٹنگ پیپر بھی مفقود ہوگیا۔ سیلبس بھی پوری طرح بدل کررہ گیا اس لئے امتحانی سینٹروں اور اس کے طریقہ کار کو بھی بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پہلے چھٹی جماعت سے انگریزی پڑھائی جاتی تھی لیکن اب نرسری سے ہی انگریزی پڑھائی جاتی ہے یہ کوئی غلط بات نہیں بلکہ یہ وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ کیونکہ کمپوٹر نے پوری دنیا میں انقلاب لایا ہے اور پھر اس کے بعد موبائیل تو گھر گھر پہنچ چکا ہے نرسری کے بچے بھی اب موبائیل کا آسانی اوراچھی طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ ہسٹری جغرافیہ کیلئے پہلے الگ سے نام تھے۔ ہسٹری کو ہماری کہانی اور جغرافیہ کو ہماری دنیا کہا جاتا تھا لیکن اب ان ناموں کا استعمال نہیں ہورہا ہے۔ اسی طرح پہلے سائینس اردو میں پڑھائی جاتی تھی لیکن اب نہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے ہماری سرکاری زبان اردو ہونے کے باوجود اس کا رواج آہستہ آہستہ ختم کیاجارہا ہے ۔ اردو کی بیخ کنی میں کچھ کچھ سیاست بھی کارفرما ہے ۔ آج کل کہیں بھی اردو استعمال نہیں کی جارہی ہے صرف عدالتوں میں تھوڑی بہت دس بیس فی صد اردو استعمال کی جاتی ہے۔ ادھر تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ڈھالنا لازمی تھا اور اب یہی کیاجارہا ہے اسلئے اب امتحانی سیشن میں بھی تبدیلی لانے کی بات کہی جارہی ہے ۔ آئندہ امتحانات آن لائن ہونگے یہاں وادی میں جن سکولوں میں سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کا سیلبس پڑھایا جارہا ہے ان میں ایک تو الگ سے سیلبس ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان کے امتحانات مارچ میں لئے جاتے ہیں۔ بھارت بھر میں جو بھی مسابقتی امتحانا ت لئے جاتے ہیں وہ بھی سبھی سی بی ایس ای کے تابع ہی لئے جاتے ہیں یعنی جب مارچ میں امتحانات ختم ہو جاتے ہیں اور نتایج کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کے بعد ہی مسابقتی امتحانات لئے جاتے ہیں کشمیری طلبہ اور طالبات کو ان کا نومبر کے بعد کئی مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر وہ ان مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہو پاتے ہیں۔ اگر ہمارے یہاں بھی مارچ سیشن ہوتا تو یہ دقت نہیں رہتی اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ امتحانات وغیرہ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ لینے سے قبل اس کے ہر پہلو کو مدنظر رکھا جائے ، ماہرین کی رائے لی جائے اور تب کہیں جاکر کوئی فیصلہ کیا جائے ۔ جلد بازی میں لئے جانے والے فیصلوں سے بعد میں پچھتانا پڑتا ہے ۔ اسلئے کشمیری بچوں کے مستقبل کو مد نظر رکھ کر مناسب اقدام اٹھایا جانا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں