کھٹوعہ کے واقعے کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی کوشش

 کٹھوعہ میں جو سانحہ رونما ہوا وہ انسانیت سوز ہے اور اس میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور جو کچھ اس معصوم بچی کے لواحقین کا کہنا ہے اس سے جگر پارہ پارہ ہوجاتا ہے اور آنکھیں آنسوئوں سے بھیگ جاتی ہیں۔ رسانہ ہیرا نگر کے ایک گوجر محمد یوسف پجوال کی معصوم آٹھ سالہ بیٹی آصفہ بانو 10جنوری کو کٹھوعہ کے مقام پر جہاں گوجروں نے ڈھیرا جمایا تھا اپنے گھوڑے لے کر دن کے بارے بجے ان کو پانی پلانے کیلئے نزدیکی ندی پر لے گئی۔ لیکن جب شام تک وہ واپس نہیں لوٹی تو اس کے گھروالوں نے اس کی ہر ممکنہ جگہ پر تلاش شروع کردی لیکن اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا۔ بعد میں اس کاوالد اپنی برادری کے کئی افراد کو اپنے ساتھ لے کر ہیرانگر پولیس سٹیشن پر گیا اور پولیس کو تحریری طور پر اس بات سے آگاہ کیا کہ اس کی بیٹی صبح سے غایب ہے جس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے اسلئے اس بارے میں کیس رجسٹر کرکے اس کی تلاش شروع کردی جائے۔ لیکن بقول ان کے پولیس ہیرا نگر نے اس درخواست پر کوئی دھیان نہیں دیا اور الٹا اس کو دھکے دے دے کر باہر نکالا۔ اس کے کئی دنوں بعد کسی بکروال نے آصفہ کے گھروالوں کو اطلاع دی کہ ان کی لڑکی کی لاش جنگل میں پڑی ہے چنانچہ وہ جب جائے واردات پر گئے تو وہاں انہوں نے زخموں سے چور آصفہ کی لاش دیکھی جو انتہائی بری حالت میں تھی اس کے بعد گوجر برادری نے وہاں دھرنا دیا اور احتجاجی مظاہرے کئے اس کے بعد جب پولیس کو اس کی اطلاع ملی تو کوئی پولیس افسر وہاں آگیا اور شاید اس بارے میں کیس درج کیاگیا۔ آصفہ کے لواحقین نے اس دوران کئی سنسنی خیز انکشافات کئے اور کہا کہ اس علاقے میں اقلیتی طبقوں سے وابستہ افراد کو بعض شرپسند عناصر نے ناک میں دم کررکھا جن کو ایک مخالف سیاسی پارٹی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو ان لوگوں کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل ہے لیکن سیاسی اثر رسوخ کی بنا پر وہ ان کیخلاف کوئی کاروائی کرنے سے قاصر نظر آتی ہے چنانچہ اسمبلی میں بھی اس واقعے کی گونج سنائی دی اور ممبروں نے پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ملوث افراد یا فرد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ معصوم بچی کا اغوا اور پھر قتل سفاکیت کی انتہا قرار دی جاسکتی ہے ۔لیکن ہندو ایکتا منچ نامی ایک پارٹی نے کھٹوعہ میں احتجاجی ریلی نکالی اور گرفتار کئے گئے قاتل کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا جس پر ہرمکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ بشمول بی جے پی اس واقعے کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ریاستی حکومت نے اس بات کو صاف کر دیا کہ کرائم برانچ اس واقعے کی اچھی طرح سے تحقیقات کر رہی ہے اور اسے فرقہ وارانہ رنگت دینے والوں کیخلاف کاروائی کی جائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں