محبوبہ مفتی اور ڈاکٹر فاروق دونوں رہنمائ بات چیت کے حق میں

کشمیری عوام کودرپیش مشکلات اور مسایل وزیراعلیٰ نے گذشتہ دنوں وزیر اعظم کے نوٹس میں لایا اور ان سے اس بات کی استدعا کی ہے کہ کشمیری عوام کو ان مسایل سے نجات دلانے کیلئے افہام و تفہیم کاراستہ اپنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سے قبل میڈیا کو بار بار بتایا تھا کہ سرحدوں پر موجودہ پر تشویش صورتحال پر قابو پانے اور کشمیری عوام کو دہائیوں سے جن مسایل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے ان کو چھٹکارا دلانے کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت ناگزیر ہے۔ چنانچہ گذشتہ دنوں نریندر مودی کے ساتھ اپنی ملاقات میںانہوں نے وزیر اعظم پر یہ بات واضح کردی کہ کشمیری عوام کو تب تک مسایل و مشکلات سے چھٹکارا نہیں مل سکتا ہے جب تک پاکستان کے ساتھ با معنی مذاکرات کا سلسلہ شروع نہ کیا جائے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ تشدد اور غیر یقینیت کے ماحول اور تنائو کو کم کیاجائے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب افہام و تفہیم کا سلسلہ شروع کیاجائے۔ جس کا نظریہ موجودہ حکومت کے ایجنڈا آف الائئینس میں درج ہے ۔ جب وزیر اعلیٰ جو پی ڈی پی کی صدر ہیں کا یہ کہنا ہے کہ بات چیت کا نظریہ ایجنڈا آف الائینس میں بھی موجود ہے پھر بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو کا وہ بیان بے کار ثابت ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ وزیر اعلیٰ کو نہیں بلکہ مرکز کو کرنا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ اس بارے میں اپنی رائے دے سکتی ہیں۔ لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ وزیر اعلیٰ ایک عام شہری نہیں بلکہ ریاست کی اعلیٰ پوزیشن پر فائیز خاتون ہیں اور وہ جو بھی بات کہتی ہیں اس میں وزن ہوتا ہے اور ان کا یہ کہنا کہ بات چیت سے ہی مسایل کا حل تلاش کیاجاسکتا ہے سو فی صد درست ہے۔ اسی پس منظر میں وزیر اعلیٰ بار بار سرحدوں پر جاری گولہ باری کے بارے میں بھی بیانات دے چکی ہیں جن میں ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک بندوق اٹھتی ہے تو اس کے مقابلے میں سو بندوقیں اٹھانا پڑتی ہیں اسلئے بات چیت کے بغیر کوئی چارہ نہیں جس سے کشمیری عوام کو درپیش مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی بار بار بات چیت کی اہمیت واضح کرچکے ہیں اور کل ہی انہوں نے بیان دیا کہ اگر کشمیر میں حالات کو معمول پر لانا ہے اور سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشید گی پر قابو پانا ہے تو مذاکراتی عمل شروع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ غرض دونوں ریاستی رہنما محبوبہ مفتی اور ڈاکٹر فاروق بات چیت کی پرزور وکالت کررہے ہیں اب اس بارے میں بی جے پی سیاست کررہی ہے جس سے اس کا اصل مدعا و مقصد سب کے سامنے عیاں ہوتا ہے کیونکہ اس طرح کے بیانات دینا جس سے تنائو کم ہونے کے بجائے اضافہ ہونے کا احتما ل ہو کسی بھی صورت میں عوام دوست اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان جتنے بھی مسایل بشمول مسئلہ کشمیر صرف اور صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کئے جاسکتے ہیں۔ اگر جنگ سے کوئی مسئلہ حل ہو سکتا ہے یا حل کیاجاسکتا ہو تو بھارت اور پاکستان کے درمیان چار جنگیں ہوچکی ہیں اور اس دوران کون سا مسئلہ حل ہوا ہے اسلئے دونوں ملکوں کی لیڈر شپ کو دور اندیشی کا بھر پور مظاہرہ کرنا چاہئے اور فوری طور ا عتماد سازی اقدامات کے تحت بات چیت کا سلسلہ شروع کرناچاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں