کویت کی تیل کمپنی میں کام کرنیوالالولاب کا نوجوان سڑک حادثے میں جاں بحق

سرینگر/کے ایم این /کرالہ پورہ کپوارہ میں اُس وقت صف ماتم بچھ گئی جب مقامی لوگوں کوعلاقے کے ایک انتہائی غریب کنبے سے تعلق رکھنے والے21 سالہ نوجوان کی کویت میں سڑک حادثے کے دوران موت واقع ہونے کی خبرموصول ہوئی۔نوجوان کے لواحقین نے اُس کی میت واپس لانے کیلئے ریاستی و مرکزی سرکاروں سے مدد کی/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 اپیل کی ہے جو گزشتہ کئی دنوں سے کویت کے ایک اسپتال میں پڑی ہے۔ کپوارہ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کے دردپورہ کرالہ پورہ علاقے کا رہنے والا21سالہ عبدالرشید لون گزشتہ آٹھ ماہ سے کویت میں ایک تیل کمپنی کے ساتھ کام کرتا تھا۔نمائندے نے مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کی صبح عبدالرشید کے گھروالوںپر اُس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب انہیںسوشل میڈیا کے ذریعے اس بات کی اطلاع موصول ہوئی کہ عبدالرشید ایک سڑک حادثے کے دوران جاں بحق ہوگیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ نوجوان گزشتہ ہفتے سڑک حادثے کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن گیا اور تب سے اس کی میت کویت کے صبا اسپتال میں رکھی گئی ہے۔عبدالرشید کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں سڑک حادثے کی تفصیلات کا کوئی علم نہیں ہے کہ یہ کب ، کہاںاور کیسے ہوا؟انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ میت اسپتال میں پڑی ہوئی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ عبدالرشید کا کنبہ انتہائی مفلس اور کسمپرسی کی حالت میں ہے اور وہ اپنے گھروالوں کی کفالت کیلئے ہی بیرون ملک کام کرنے گیا تھا۔جاں بحق نوجوان کے ایک قریبی رشتہ دار نے کے ایم ا ین کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے طور پر میت کو کویت سے واپس لانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا’’اس کا کنبہ انتہائی غریب ہے اور میت کو آخری رسومات کیلئے واپس لانے کا بھاری خرچہ برداشت نہیں کرسکتا، ہم ریاستی اور مرکزی سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ عبدالرشید کی میت واپس لانے میں ہماری مدد کریں تاکہ ہم اس کی تجہیز و تکفین انجام دے سکیں‘‘۔ معلوم ہوا ہے کہ جب عبدالرشید کی کویت میں موت واقع ہونے کی خبر اس کے آبائی علاقے میں پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا ۔اس موقعے پر خواتین کو آہ وزاری کرتے دیکھا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں