زیر سماعت معاملات کیلئے کارروائی عدالتوں کو پہلی بار جیل خانوں کیساتھ جوڑاگیا

سرینگر/جموںوکشمیر میں پہلی بارعدالتوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جیل خانو ں کے ساتھ جوڑا گیا تاکہ زیر سماعت معاملات کو فوری طور نمٹایاجاسکے۔اس سہولیت کا آغاز جسٹس الوک آرادھے چیرپرسن کیمپوٹراینڈ ای کورٹس ﴿ای گورننس﴾ کمیٹی نے ضلع کورٹ کمپلیکس جموں اورجسٹس علی محمد ماگرے ممبر کیمپوٹر اینڈ ای کورٹس ﴿ای گورننس﴾ کمیٹی نے ضلع کورٹ کمپلیکس سرینگر سے کیا۔ویڈ یو کانفرنسنگ میں ڈی جی پی جیل خانہ جات دلباغ سنگھ ،کمشنر سیکریٹری ہوم آر کے گوئل ،سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی سوگھت بسواس،پرنسپل ڈسٹرکٹ جج جموں ونود چٹرجی کول،پرویز ایچ/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کاچرو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سرینگر شبیر احمد ملک کوارڈینیٹر سی پی سی ای کورٹس سرینگر،ڈی آئی جی پرزنز ،ضلع سرینگر کے جوڈیشل آفیسران اورسینٹرل جیل سرینگر اور کٹھوعہ کے جیل سپرا نٹنڈنٹوں نے شرکت کی۔اس موقعہ پر جسٹس ماگرے نے اس پیش رفت کو انصاف کی فراہمی کے نظام کو انتہائی اہم قد م قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ ویڈیو کانفرنسنگ کو مختلف واقعات میں ملوث افراد یا زیر سماعت لوگوں کی عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے انہیں مزید جوڈیشل ریمانڈ دینے کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔اس قدم سے جہاں عدالتوں کا عقت بچ جائے گا وہیں ریاست ذرائع کو بچایاجاسکتا ہے۔عرضی دہندگان کو انصاف فراہم کرنے اور جوڈیشل نظام کے مناسب اخراجات کو یقینی بنانے کے لئے جسٹس ماگرے نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر عدلیہ کے نظام میں تیزی کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی اپنا رہا ہے۔جس سے متعلقین کو انٹرنیٹ یا آف لائین انفارمیشن کوئسکس کے ذریعے دستیاب ہوںگی جنہیں ریاست کی مختلف عدالتوں میں نصب کیا گیا ہے۔انصاف کی فراہمی کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جسٹس الوک آرادھے نے کہا کہ اس سے عدالتوں میں لائے جانے والے ملزمین کی سیکورٹی رسک میں کمی کی جاسکتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ویڈیو کانفرنسنگ کی ریکارڈ نگ کارروائی کے لئے بیانات کے سلسلے میں ایسے زیر سماعت افراد کے لئے استعمال میں لائی جاسکتی ہے جن کے لئے عدالتوں میں حاضر ہونا مشکل ہوسکتا ہے۔انہوںنے انفارمیشن ٹیکنالوجی،ہوم ڈیپارٹمنٹ اورپرزنز محکمے کا تعائون کے لئے شکریہ ادا کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں