شام میں جنگ بندی کے وقفے کے دوران گولہ باری

سرینگر/ مانٹرنگ/28فروری/ شام کے شہر غوطہ کے مشرقی علاقے میں شامی حکومت کے حامی روس کی جانب سے عائد کردہ پانچ گھنٹہ دورانیے کی جنگ بندی کے باوجود گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں باغیوں کے زیرِ قبضہ اس شہر میں اقوامِ متحدہ نہ تو امداد پہنچا سکی اور نہ ہی وہاں سے کسی بیمار یا زخمی شخص کو علاج کے لیے نکالا جا سکا۔ دمشق کے قریب واقع اس شہر میں تین لاکھ 93 ہزار لوگ گھر کر رہ گئے ہیں۔ سرکاری افواج نے 2013سے اس شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ نو روز قبل لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک پانچ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق منگل کو کم از کم چھ عام شہری مارے گئے۔ ان میں سے دو عین پانچ گھنٹے کی جنگ بندی کے وقفے کے دوران ہلاک ہوئے۔ روسی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ مشرقی غوطہ میں باغیوں نے وقفے کے دوران حملہ کر دیا اور دو جگہوں پر سرکاری فوج کے ٹھکانوں کو ہدف بنایا۔ فرانس اور برطانیہ نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ شامی صدر بشار الاسد پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے تمام ملک میں 30 روزہ جنگ بندی پر عمل کروائے۔ ہفتے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فریقین سے 30 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں