غیرمعیاری اور نقلی ادویات کی بھر مار

 صحت کے معاملے میں کسی سمجھوتے کی گنجایش نہیں ہوتی ہے اور اگر علاج معالجے میں یا ادویات کے استعمال میں کوئی غلطی ہوتی ہے تو اس سے انسان کی قیمتی جان بھی جاسکتی ہے۔ عرصہ دراز سے یہاں لوگ اس بات کی شکایت کرتے آئے ہیں کہ بازاروں میں جو ادویات دستیاب ہیں وہ غیر معیاری ہوتی ہیں جبکہ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سی ادویات نقلی بھی ہوتی ہیں جن کے استعمال سے بیمار کو افاقہ تو نہیں ہوتا ہے الٹا ان ادویات کے استعمال سے اس کی صحت اور زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ لوگوں کی شکایت یہ ہے کہ غیر معیاری ادویات کو عام کرنے میں ڈاکٹروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کیونکہ بہت سے ڈاکٹروں پر یہ الزام عاید کیا جارہا ہے کہ وہ دواساز کمپنیوں سے قیمتی تحفے تحایف اور غیر ملکی دوروں کیلئے سفر خرچہ حاصل کرکے لوگوں کو تھرڈ کلاس کمپنیوں کی ادویات تجویز کرکے ان کو استعمال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس سے مریضوں کو کوئی فایدہ تو نہیں پہنچ رہا ہے البتہ اس قسم کی ادویات بنانے والی کمپنیوں کے مالکان کی تجوریاں بھر جاتی ہیں اوروہ یہ دھندا اور زیادہ پھیلا کر لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ اگرچہ سب کے سب ڈاکٹر ایسے نہیں جو لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں لیکن اگر اس غیر انسانی کام میں مٹھی بھر ڈاکٹر بھی ملوث ہونگے تو وہ پوری ڈاکٹر برادری کے چہرے پر کالک پوتنے کے مرتکب ہوتے ہیں اسلئے ڈاکٹروں پر یہ لازم ہے کہ وہ اس باوقار پیشے کو بدنام کرنے والوں کو بے نقاب کریں تاکہ لوگ ان کی ذلیل حرکتوں کے اور زیادہ شکار نہ ہوجائیں۔ کل ہی اخبارات میں محکمہ ڈرگس کے حوالے سے ایک خبر شایع ہوئی ہے جس میں کہا گیا کہ ہندوارہ لنگیٹ کے ایک دور دراز گاوں میں ایک بوسیدہ جھونپڑی نما مکان میں کسی شخص نے ادویات بنانے کا کارخانہ قایم کیاتھا جہاں وہ آیور ویدک ادویات بنانے کا دعوے کرتا ہے حالانکہ جب اس کے کارخانے پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں ایسی چیزیں پائی گئیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ شخص مذکورہ ایسی ادویات تیار کرنے کا مرتکب ہورہا ہے جو کسی بھی قیمت پر معیاری قرار نہیں دی جاسکتی ہیں۔ دوسری اہم بات چھاپہ مارٹیم نے یہ نوٹ کی کہ کس طرح اس شخص کو ایک بستی میں کارخانہ قایم کرنے کی اجازت دی گئی۔ بہر حال کارخانے کے مالک کو گرفتار کیا گیا اور معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی۔ اسی طرح ضلع انتظامیہ نے کپوارہ میں ایسے کئی تشخیصی مراکز پر چھاپے مار کر ان کو سر بمہر کردیا جہاں بقول سرکاری ذرایع ماں کے بطن میں بچے کی جنس کی تشخیص کی جاتی رہی ہے جبکہ قانونی طور پر اسے ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے ملک میں لڑکیوں کی پیدایش کا تناسب تیزی سے گرتا جارہا تھا جس کی بنا پر حکومت نے اس کو جرم قرار دے کر لڑکیوں کی فلاح و بہبود کے تعلق سے کئی سیکمیں رایج کی ہیں۔ جن میں بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو سکیم بھی شامل ہے جس پر کروڑوں کی رقم صرف کی جاتی ہے اسلئے لوگ یہ مطالبہ کررہے ہیں جو مراکز اس طرح کی غیر قانونی حرکتوں کے مرتکب ہورہے ہیں ان کیخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے اور ان لوگوں کیخلاف بھی سخت ایکشن لی جانی چاہئے جو غیر معیاری ادویات کی خرید و فروخت یا ان کو بنانے کے مرتکب قرار پائینگے۔ اگر اس سارے معاملے کو سرسری طور پر لیاجائے گا تو لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں