لیتہ پورہ میں سی آر پی کیمپ پر فدائین حملہ این آئی اے نے پوچھ گچھ کا عمل شروع کردیا

سرینگر/کے ایم این /قومی تحقیقاتی ایجنسی ﴿این آئی اے﴾ نے دو ماہ قبل لیتھ پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کے ایک تربیتی مرکز پر ہوئے فدائین حملے کے سلسلے میں باضابطہ طور کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ مجموعی طور36گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس حملے میں دو مقامی جنگجوئوں سمیت3 فدائین اورسی آر پی ایف کے5 اہلکارہلاک ہوئے تھے ۔ خودکار اور جدید ہتھیاروں سے لیس3 فدائین جنگجوئوں پر مشتمل ایک دستے نے 30 اور 31 دسمبر/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 2017 کی درمیانی شب کے دوران لیتھ پورہ اونتی پورہ میں قائم سی آر پی ایف کے ایک ٹریننگ سینٹر پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے پے در پے گرینیڈ داغنے شروع کئے۔ فدائین جنگجواندھیرے کی آڑ میں کیمپ کے عقبی حصے سے اندرداخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں موجود اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے تربیتی مرکز کی عمارات میں پناہ لی ۔طرفین کے مابین شدید گولہ باری کا سلسلہ یکم جنوری2018کی دوپہر تک جاری رہا اور اس حملے میں مجموعی طور سی آر پی ایف کے 5اہلکار مارے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ان میں سے دوجنگجوئوں کی شناخت فردین احمد کھانڈے ولد غلام محمد ساکنہ نازنین پورہ ترال اور منظور احمد بابا ولد علی محمد ساکن دربگام پلوامہ کے بطور ہوئی جن کا تعلق جیش محمد کے ساتھ تھا ۔ایک پولیس کانسٹیبل کے بیٹے فردین کی عمر صرف16سال تھی اور اس نے محض تین ماہ قبل عسکریت پسند تنظیم جیش محمد میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ منظور بابا صرف دو ماہ قبل عسکری صفوں میں شامل ہوا تھا۔حملے میں مارے گئے تیسرے جنگجوکی شناخت نہیں ہوسکی ، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ غیر مقامی تھا۔ ایسا ایک طویل عرصے کے بعد ہوا کہ سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر فدائین طرز کے حملے میں مقامی جنگجوئوں نے حصہ لیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات کا کام قومی تحقیقاتی ایجنسی یعنیNAIکو سونپ دیا گیا جس کے بعد ایجنسی کے افسران کی کئی ٹیموں نے حملے کا نشانہ بنائے گئے فورسز کیمپ کا دورہ کیااور ضروری چیزوں کے نمونے حاصل کئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں این آئی اے نے مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات پر باضابطہ طور کیس درج کرلیا ہے اور اس کی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایجنسی کی طرف سے رجسٹر کئے گئے کیس میں رنبیر پینل کوڈ کی دفعات459,460اور307 اور آرمز ایکٹ کی دفعہ7اور27 کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون کی دفعات16, 18اور20شامل کی گئی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ کیس درج کرنے کے بعد این آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے حملے کی تحقیقات میں سرعت لائی ہے جس کے تحت ایجنسی کے افسران سی آر پی ایف کیمپ کا دورہ کررہے ہیں اور وہاں تعینات اہلکاروں سے حملے کی نسبت جانکاری حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں