سعودی شاہ نے فوجی سربراہ سمیت اعلیٰ کمانڈر برطرف کردیے

ریاض/27فروری/سعودی عرب نے گزشتہ رات ایک شاہی حکم نامے کے ذریعے چیف آف سٹاف سمیت چوٹی کے فوجی کمانڈروں کو برطرف کردیا ہے۔ سعودی شاہ سلمان نے بری اور فضائی افواج کے سربراہوں کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ یہ خبر سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی نے جاری کی ہے مگر اس میں ان برطرفیوں کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملک میں روبہ عمل ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے پیچھے دراصل ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے۔ گذشتہ برس شہزادوں، وزرا اور ارب پتی تاجروں سمیت درجنوں سعودی شہریوں کو پکڑ کر رٹز کارلٹن ہوٹل میں قید کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ شہزادہ محمد کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف چلائی جانے والی مہم بتائی گئی تھی۔ چیف آف سٹاف جنرل عبدالرحمن بن صالح البنیان ان افراد میں شامل ہیں جنہیں عہدے سے برطرف کیا گیا ہے۔ اسی اثنا میں کئی سیاسی تقرریوں کا اعلان بھی کیا گیا جن میں ایک خاتون نائب وزیر کی تعیناتی کا نایاب فیصلہ شامل ہے۔ تمادار بنتِ یوسف الرمہ کو مزدور اور سماجی بہبود کی وزرات میں تعینات کیا گیا۔ شہزادہ ترکی بن طلال کو نیا جنوب مغربی صوبے عصیر کا نائب گورنر تعینات کیا گیا ہے۔ وہ کروڑ پتی شہزادے ولید بن طلال کے بھائی ہیں جنہیں بد عنوانی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور دو ماہ بعد رہا کیا گیا۔ یہ شاہ سلمان کے دور میں برپا ہونے والے متعدد انقلابات میں ایک اور انقلاب ہے۔ تاہم اس کے پیچھے بھی ان کے صاحبزادے محمد بن سلمان کا ہاتھ کارفرما نظر آتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں