اعتماد سازی اقدامات کے تحت ہند پاک مذاکرات

نئی دہلی میں جانکار سیاسی حلقے اس بارے میں پرُ امید ہیں کہ اب کی بار بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی بھی وقت اعتماد سازی اقدامات کے تحت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے کیونکہ بھارت نے غیر متوقع طور پر نئی دہلی میں 19مارچ سے شروع ہونے والی عالمی تجارتی کانفرنس کی منسٹریئل میٹنگ میں شرکت کیلئے پاکستان کو با ضابطہ دعوت دی ہے جس کو پاکستان نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے وزیر تجارت پرویز ملک نہ صرف کانفرنس میں شریک ہونگے بلکہ وہ اس دوران اپنے بھارتی ہم منصب سریش پربھو کے ساتھ بھی الگ سے ملاقات کرکے باہمی تجارتی تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کرینگے۔ نئی دہلی سے جو میڈیا رپورٹس موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق وزیر اعظم ہند یا وزیر خارجہ کے پرویز ملک کے ساتھ الگ سے کسی ملاقات کے بارے میں سفارتی سطح پر اگرچہ کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی ہے لیکن اتنا ضرورہے کہ غالباًوہ وزیر اعظم یا وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کی درخواست کرسکتے ہیں جسے قبول کیاجاسکتا ہے کیونکہ نئی دہلی میں جانکار سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت نے ہی اس بار پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کیلئے پہل کی ہے جبکہ پاکستان اس سے قبل بار بار اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی صورت میں بات چیت کا سلسلہ شروع کیاجانا چاہئے۔ اگر ایسا ہوگا تو سب سے پہلے سرحدوں پر جو موجودہ پر تنائو صورتحال ہے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے اور جب بندوقیں اور توپیں خاموش ہوجاینگی تو وہ لوگ جو ہجرت کرچکے ہیں واپس اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں اور آرام سے اپنی روز مرہ کی زندگی گذارسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے ایسے متنازعہ مسایل جن کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکالا جا سکا ہے کے بارے میں بھی بات چیت شروع کی جاسکتی ہے۔ یہ سب کچھ ہونے سے برصغیر میں دایمی امن قایم ہوسکتا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے لوگ صرف امن چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کو چین و سکون سے رہنے دیا جائے۔ میڈیا رپورٹس میں ہند پاک تعلقات کے حوالے سے کہا گیا کہ اگر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اس سال کے آخر پر پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت پر آمادگی کا اظہار کرتے ہیں تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کا موجب بن سکتی ہے کیونکہ پاکستان جاکر اس ملک کے سربراہوں کے ساتھ ان کی ملاقات میں تعلقات میں بہتری لانے کیلئے قول و قرار کی امید کی جاسکتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برس جنوبی ایشیا میں خراب حالات کی بنا پر سارک کے بعض ممبرملکوں نے اس اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہر کی تھی جس کے بعد سربراہ اجلاس کو ملتوی کیا گیا تھا اور اب یہ اجلاس پہلے سے مقرر کردہ مقام پاکستان میں منعقد ہورہا ہے جس میں بھارتی وزیر اعظم کی شرکت متوقع ہے۔ غرض جنوبی ایشیا میں دایمی امن کے قیام کیلئے بھارت اور پاکستان کو اہم رول ادا کرنا ہوگا کیونکہ جب یہ دونوں ملک آپسی تعلقات میں بہتری لائیں گے تو اس کے مثبت اثرات دوسرے ایشیائی ممالک پر بھی پڑسکتے ہیں اور وہ بھی ان دو ملکوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ این ڈی اے حکومت کا یہ آخری سال ہے جس کے بعد الیکشن ہونگے اور اگر بھارت کے پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات قایم ہونگے تو یہ این ڈی کے حق میں فایدہ مند ثابت ہوسکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں