راجوری اور پونچھ سیکٹر میں شدید گولہ باری

سرحدی آبادی کی ہجرت ، تمام تعلیمی ادارے بند کردئے گئے -اوڑی ہائرسکینڈری سکول میں رہنے والے سینکڑوں مہاجرین کو گھرواپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی  سرحدوں پر صورتحال کشیدہ
سرینگر/کے ایم این /کے این ایس /ہند پاک افواج نے پونچھ اور راجوری میں لائن آف کنٹرول پرپھرسے ایک دوسرے پر اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دئے جس دوران شدید نوعیت کی گولی باری میں2 بی ایس ایف اہلکار زخمی اور ایک گائو خانہ تباہ ہوگیا۔کشیدہ صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں کے تمام تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کیلئے بند کردئے گئے ہیں۔ شمالی کشمیر کے اوڑی سیکٹر کے ساتھ ساتھ جموں صوبے کے مختلف علاقوں میںبھی حد متارکہ کی صورتحال بدستورانتہائی کشیدہ ہے ۔یہ تنائو گزشتہ چند ماہ سے جاری ہے جب دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان زبردست گولہ باری ہوئی شروع ہوئی جو وقفے وقفے سے جاری ہے اور بعض اوقات اس میں اس قدر شدت پیدا ہوئی کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف جانی اور مالی نقصان ہوا۔منگل کو بھی طرفین کے درمیان خوفناک گولی باری ہوئی جس کے دوران دونوں ملکوں کی افواج نے ایک دوسرے پر خودکار ہتھیاروںسے فائرنگ کی جبکہ اس بیچ اعصاب شکن دھماکوں کے نتیجے میں سرحدی علاقے لرز اٹھے ۔جموں میں مقیم دفاعی ترجمان لیفٹنٹ کرنل دویندر آنندنے بتایا کہ پاکستانی فوج نے منگل /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کی صبح8بجکر50منٹ پر پونچھ میں کنٹرول لائن کے بھمبر گلی اور بالاکوٹ سیکٹروں میںفوج کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے شدید گولی باری کی جس کا فوج کی طرف سے زوردار جواب دیا گیا۔ترجمان کے مطابق یہ فائرنگ بغیر کسی اشتعال کے شروع کی گئی ہلکے اور خود کار ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ زوردار مارٹر شیلنگ بھی کی گئی۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے نتیجے میں سرحدی حفاظتی فورس یعنی بی ایس ایف کے دو اہلکار معمولی طور زخمی ہوئے جبکہ ایک گائو خانہ مکمل طور تباہ ہوا۔دفاعی ذرائع نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ ابتدائی طور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ، تاہم بعد میں آتشیں گولے داغے گئے جن میں سے کئی شیل آبادی والے علاقوں میں گر کر پھٹ گئے۔بعد میں پونچھ کے ہی کئی دیگر مقامات پر بھی شدید نوعیت کی گولی باری ہوئی۔ذرائع کے مطابق راجوری کے متعدد علاقوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال پیش آئی۔ڈپٹی کمشنر راجوری شاہد اقبال چودھری نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے راجوری میں کنٹرول لائن کے متصل تارکنڈی گلی، لمبی باری، کھوری نار،دھار اور پنجگریاں علاقوں میں بھی منگل کی صبح فائرنگ اور شیلنگ شروع کردی ۔تاہم انہوں نے کہا کہ شیلنگ کے نتیجے میں کوئی عام شہری زخمی نہیں ہوا۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ راجوری کے منجاکوٹ علاقے میں بھی رہائشی بستیوں اور فوجی چوکیوںکو پاکستان کی طرف سے گولی باری کا نشانہ بنایا گیا ۔جن علاقوں میں گولی باری جاری رہی، وہاں کے بیشتر لوگوں نے گھروں کے اندر پناہ لے رکھی ہے جبکہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں روانہ کرکے لوگوں کو گھروں کے اندر ہی رہنے کی ہدایات دی جارہی ہیں۔دریں اثنائ ضلع انتظامیہ نے سرحدی گولی باری سے متاثرہ علاقوں کے تمام اسکول غیر معینہ عرصے کیلئے بند رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام اسکولی بچوں اور اسٹاف ممبران کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ادھر سینکڑوں مہاجرین کی گھرواپسی میں رکائوٹ پیداہوئی ہے کیونکہ فوج نے سرحدی صورتحال کوناسازگارقراردیتے ہوئے سلی کوٹ کے 10 کنبوں کوگائوں سے واپس اوڑی بھیج دیا۔فوج کے افسروں نے ایس ڈی ایم اوڑی اورایس ڈی پی ائواوڑی کوبتایاکہ ابھی لائن آف کنٹرول کی صورتحال ایسی نہیں کہ نقل مکانی کرنے والے کنبے واپس اپنے گھروں کولوٹیں ۔ ایس ڈی ایم کے بقول ہمیں فوجی افسروں نے بتایاکہ ابھی سرحدی صورتحال سازگارنہیں ہے ،اسلئے اوڑی میں رہ رہے کنبے واپس اپنے گھروں کونہیں آسکتے ہیں ۔اُدھراوڑی کے امدادی کیمپ میں پناہ گزیںمہاجرین نے محفوظ علاقوں میں بسانے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے سروں پرہمہ وقت موت کی تلوارلٹکتی رہتی ہے ۔ مہاجرین نے پھرہندوپاک سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیرکاکوئی حل نکالیں ۔ اتوارسے لائن آف کنٹرول پرصورتحال بہتررہنے کے بعدمنگل وارکی صبح سیول اورپولیس انتظامیہ نے نقل مکانی کرنے والے اُن کنبوں کی گھرواپسی کاعمل شروع کیاتھاجو قصبہ اوڑی میں واقع سرکاری ہائراسکنڈری اسکول میں عارضی طورپرپناہ لئے ہوئے ہیں ۔منگل کی صبح ایس ڈی ایم اوڑی اورایس ڈی پی ائواوڑی لگ بھگ 10مہاجرکنبوں کوساتھ لیکرحدمتارکہ کے نزدیک واقع سلیکوٹ روانہ ہوئے ۔ تاہم گائوں میں پہنچتے ہی فوج نے اُنھیں روکا،اورواپس آئے کنبوں کواپنے گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔اس موقعہ پرفوج کے افسروں نے ایس ڈی ایم اورایس ڈی پی ائواوڑی کوبتایاکہ ابھی لائن آف کنٹرول پرصورتحال اطمینان بخش نہیں ہے ،اسلئے نقل مکانی کرنے والے کنبے اپنے گھروں کوواپس آنے کاانتظارکریں ۔فوج کے صاف انکارکئے جانے کے بعدپولیس اورسیول انتظامیہ کے افسرسبھی کنبوں کوواپس اوڑی لے آئے ۔ایس ڈی ایم اوڑی نے سلی کوٹ سے واپس اوڑی پہنچنے کے بعداسبات کی تصدیق کی کہ فوج نے گائوں والوں کوواپس گھروں میں آکررہنے کی اجازت نہیں دی ۔انہوں نے بتایاکہ ہمیں فوجی افسروں نے بتایاکہ ابھی سرحدی صورتحال سازگارنہیں ہے ،اسلئے نقل مکانی کرکے اوڑی میں رہ رہے کنبے واپس اپنے گھروں کونہیں آسکتے ہیں ۔ایس ڈی ایم کاکہناتھاکہ ہمیں فوجی افسروں نے یہ بھی بتایاکہ ابھی اسبات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ پاکستان کی فوج دوبارہ گولہ باری اورشلنگ نہیںکرے گی۔فوجی افسروں نے سیول اورپولیس حکام سے کہاکہ کچھ روزانتظارکیجئے تاکہ مکمل اطمینان ہونے کے بعدبے گھرہوئے کنبوں کی واپسی کاعمل شروع کیاجاسکے۔اُدھراوڑی کیمپ میں مقیم 700سے زیادہ مہاجرین نے کہاکہ اُن کیلئے سرحدوں کے نزدیک رہناایک مسلسل عذاب ہے کیونکہ وہ عملاًاپنے گھروں میں محصوررہتے ہیں ۔سلی کوٹ کے مہاجرین کاکہناتھاکہ اُنکے گائوں کے چاروں اطراف تاربندی کی گئی ہے ،اوراگرسرحدپرگولہ باری شروع ہوتی ہے تواُن کیلئے گائوں سے باہرآناممکن نہیں ہوتاکیونکہ نکلنے والے واحدگیٹ کوبندکردیاجاتاہے اوروہ گھروں میں پھنس کررہ جاتے ہیں ۔کئی ایسے مہاجرین کاکہناتھاکہ اُن کودوسرے اورمحفوظ علاقوں میں منتقل کرکے وہاں ہی بسایاجائے ۔وڑی کے امدادی کیمپ میں مقیم مہاجرین نے محفوظ علاقوں میں بسانے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے سروں پرہمہ وقت موت کی تلوارلٹکتی رہتی ہے ۔ مہاجرین نے سرحدی کشیدگی کوایک عذاب قراردیتے ہوئے ہندوپاک سے مسئلہ کشمیرمذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنے گھروں کولوٹناچاہتے ہیں ،ہم امن کیساتھ رہناچاہتے ہیں ،اسلئے دونوں ملک بات چیت کرکے اس مسئلے کوحل کریں۔ قصبہ اوڑی میں واقع سرکاری ہائراسکنڈری اسکول میں پچھلے کئی دنوں سے رہ رہے700سے زیادہ مہاجرین اپنے گھروں کولوٹنے کے منتظرہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں