وزیراعلیٰ کی وزیر داخلہ راج ناتھ اور وزیرخزانہ کیساتھ ملاقاتیں وادی میں امن وقانون کی صورتحال اور ایجنڈ آف الائنس کی عمل آوری پر تبادلہ خیال

نئی دہلی/ دلی میں محبوبہ مفتی اورراجناتھ سنگھ کی وَن ٹووَن میٹنگ کے دوران سرحدی واندرونی صورتحال اورایجنڈاآف الائنس کی عمل آوری پرتبادلہ خیال ہوا۔وزیراعلیٰ نے عوامی اعتمادبحال کرنے کیلئے کچھ فوری اقدامات اُٹھانے کی وکالت کرتے ہوئے ایجنڈاآف الائنس میں شامل نکات پرعمل درآمدکرنے پرزوردیا۔مرکزی وزیرداخلہ نے مذاکرات کارکی تعیناتی کوقیام امن کی جانب اہم قدم سے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ مرکز بحالی امن وامان اور تعمیراتی وترقیاتی عمل کوآگے بڑھانے میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔ ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل وارکونئی دہلی میں مرکزی وزیرداخلہ /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
راجناتھ سنگھ کیساتھ ملاقات کی ،جس دوران کشمیرکی اندرونی وسرحدی صورتحال اورریاست میں برسراقتدارجماعتوں پی ڈی پی اوربی جے پی کے مابین طے پائے گئے ایجنڈاآف الائنس میں شامل مختلف نکات پرعمل درآمدکابھی احاطہ کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے مرکزی وزیرداخلہ کوجموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول پرہندوپاک افواج کے درمیان ہونے والی شدیدفائرنگ اورشلنگ سے پیداشدہ صورتحال کی جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایاکہ آئے دنوں پیداہونے والی یہ صورتحال سرحدی آبادی کیلئے عذاب بنی ہوئی ہے کیونکہ بندوقوں کے دہانے کھلتے ہی اُنھیں اپنے گھروبارچھوڑکردوسرے علاقوں میں منتقل ہوناپڑتاہے ۔محبوبہ مفتی نے راجناتھ سنگھ کوبتایاکہ کراس ایل ائوسی فائرنگ وشلنگ کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ سخت ترین مشکلات اورمصائب سے دوچارہوجاتے ہیں ۔انہوں نے شہریوں کی حفاظت وسلامتی کیلئے سرحدی علاقوں میں انفرادی اوراجتماعی نوعیت کے زیرزمین پختہ بنکرتعمیرکرنے پرزوردیتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیاکہ سرحدی کشیدگی کاشکارہونے والے کنبوں کی راحت کاری کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات اُٹھائے جائیں ۔انہوں نے اسبات پرزوردیاکہ سرحدپارکی گولہ باری اورمارٹرشلنگ سے سرحدی علاقوں میں جن لوگوں کے مکانات کونقصان پہنچاہے ،اُن کوفوری معاوضہ فراہم کرکے اُنکی بازآبادکاری کویقینی بنایاجائے ۔معلوم ہواکہ لگ بھگ20منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے دوران محبوبہ مفتی اورراجناتھ سنگھ نے جموں وکشمیرکی اندرونی صورتحال بشمول جنگجوئیانہ سرگرمیوں کابھی جائزہ لیاجبکہ دونوں لیڈروں نے مرکزکی جانب سے ریاست میں مذاکراتی عمل شروع کئے جانے پربھی تبادلہ خیال کیا۔مرکزی وزیرداخلہ نے بتایاکہ مرکزنے دنیشورشرماکو بطور مذاکراتکاریااپنانمائندہ خصوصی بناکر بھیجاہے ،اوراُنھیں سبھی طبقوں یعنی متعلقین کیساتھ بات چیت کامندیٹ حاصل ہے ۔انہوں نے خاتون وزیراعلیٰ کویہ بھی بتایاکہ مرکزی سرکارجموں وکشمیرمیں قیام امن کے حوالے سے سنجیدہ ہے ،اوراسی نیت خلوص کے تحت مذاکراتکارکی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کواسبات کی یقین دہانی کرائی کہ مرکزی سرکار ریاست میں امن وامان کی صورتحال کوبہتربنانے کیساتھ ساتھ تعمیراتی وترقیاتی عمل کوآگے بڑھانے میں ریاست کوہرسطح پرتعاون دیتی رہے گی ۔انہوں نے وزیراعلیٰ کوبتایاکہ سرحدی علاقوں میں زیرزمین بنکرتعمیرکرنے کے منصوبے کوپہلے ہی منظوری دی گئی ،اوربہت جلداس منصوبے پرعمل درآمدشروع کرایاجائیگا۔میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیرداخلہ کوبتایاکہ ریاست میں عوامی اعتمادکوبحال کرنے کیلئے ایجنڈاااف الائنس میں شامل نکات پرعمل درآمدکی ضرورت ہے ۔انہوں ے راجناتھ سنگھ سے کہاکہ اتحادی جماعتوں کے مابین طے پائے ایجنڈاآف الائنس پرعمل درآمدکیلئے فوری اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ نے این ایچ پی سی کی تحویل میں پڑے پن بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کامعاملہ بھی راجناتھ سنگھ کیساتھ اُٹھایا۔انہوں نے مرکزی وزیرداخلہ کوبتایاکہ پائورپروجیکٹوں کی واپسی ایک دیرینہ مانگ ہے ،جس کوپوراکرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست میں عوامی سطح پرایک مثبت تاثرپیداہوسکے کہ مرکزریاست اورریاستی عوام کے حقوق ،مفادات اورضروریات کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ادھر    وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی جو قومی دارالخلافہ میں ہیں نے کل شام مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ساتھ ملاقات کی ۔میٹنگ کے دوران دونوں لیڈروں نے ریاست کو درپیش اقتصادی معاملات کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ کروڑ روپے کے وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کی عمل آوری جیسے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ محبوبہ مفتی نے پیکیج کے تحت تیز تر اور بروقت رقومات کی واگزاری کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے دائوں کو فوری طور سے نمٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے سال 2014ئ کے سیلاب سے متاثرہ رہ گئے افراد کی واجبات کو پور ا کرنے کے لئے ریاست کو خصوصی فنڈس دینے کی بھی وکالت کی۔وزیرا علیٰ نے اعلیٰ شرحوں کے سودوں کو نرم قرضوں میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیاتاکہ ریاستی حکومت پر یہ قرضے واپس اد ا کرنے کے بوجھ کو کم کیا جاسکے ۔وزیر اعلیٰ نے بجلی بلوں کے واجب الادائیگیوں کو ریاستی بانڈس کے 3500کروڑورپے کے زریعے ادا کرنے کے معاملے کو بھی مرکزی وزیر خزانہ کے سامنے رکھا۔ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر خزانہ کو مقامی تاجروں کے ان مسائل کے بارے میں آگاہ کیا جو انہیں 2016کی نامساعد حالات کی وجہ سے نقصانات اٹھانے پڑے۔انہوںنے ریاست میں تاجروں کی طرف سے لئے گئے قرضوں کو از سر نو تشکیل دینے اور انٹرسٹ سب ونشن کا مطالبہ کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے ارکان نے جموں وکشمیر میں وزیر اعلیٰ سے اس بات کی درخواست کی تھی اور وزیر اعلیٰ نے تاجر برادری کو یقین دلایا تھا کہ وہ یہ معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ اٹھائیں گی۔مرکزی وزیر خزانہ نے وزیر اعلیٰ کو یقین دلایا کہ مرکزی سرکار وزیر اعلیٰ کی طرف سے اُبھارے گئے تمام معاملات کو حل کرنے کے لئے ہر طرح کے اقدامات اُٹھائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں