جامع مسجد میں مزاحمتی قیادت کی طرفسے دئے گئے پروگرام کے تحت مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کی ریلی سنٹرل جیل میں نظربند قیدیوں کی منتقلی پر احتجاج

سرینگر/ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے دیئے گئے احتجاجی پروگرام کے تحت میں مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر نماز ظہر کے فوراً بعد مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد میں محمد یاسین ملک کی قیادت میں ایک پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔ اس موقعہ پرسید علی گیلانی،میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے احتجاجی مظاہرین سے ٹیلیفونک خطاب کیا ۔ /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
اپنے خطابات میں قائدین نے جیلوں میں نظر بند قیدیوں کے تئیں ریاستی حکمرانوں کی جانب سے اختیار کی جارہی پالیسیوںکو حد درجہ انتقام گیرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کا طرز عمل خود ان کے عدلیہ کے فیصلوں کے منافی ہے ۔انہوں نے تحریکی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو کامیابی کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قوم نے اپنے جائز حق کے حصول کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوںکو تحریک کے تئیں فکری یکسوئی اور استقامت کے ذریعہ ہی ثمر آور بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا ظلم و جبر ہمارے ارادوںکو کمزور نہیں کرسکتا اور یہ قوم ایک جائز جدوجہد میں مصروف ہے اور انشائ اللہ فتح ان کی ہی ہوگی۔قائدین نے سینٹرل جیل سرینگر میں مقیدکشمیری سیاسی نظر بندوںکو بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کرنے کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکمرانوں کے اس اقدام کو بدترین سیاسی انتقام گیری قرار دیا اور اسکی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا یہ معاندانہ اقدام خود بھارت کے سپریم کورٹ کے اس واضح فیصلے کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قیدیوںکو بیرونی قید خانوں اور جیلوں کے بجائے مقامی قیدخانوں میں ہی رکھنے کو ترجیح دی جائے ۔قائدین نے کہا کہ گزشتہ دنوں نوید نامی ایک عسکریت پسند کی پولیس کی حراست سے بھاگنے کے بعد حکمران طبقہ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اس کا نزلہ قید و بند میں رکھے گئے مظلوم قیدیوں پر گرا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس موقعہ پر مزید پانچ کشمیری قیدی بھی ان کے ہمراہ تھے اگر ان میں سے کسی ایک کا بھی نوید کے بھگانے میں ہاتھ ہوتا تو اسکی تحقیقات ہونی چاہئے تھی نہ کہ جیل میں مقید قیدیوںکو سرینگر سے باہر کے جیلوں میں منتقل کرنے کی انتقامی کارروائی عمل میں لائی جاتی۔انہوں نے کہا کہ سینٹرل جیل سے جن کشمیری نظر بندوںکو بیرون ریاست مختلف جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے ان میں سے بیشتر کا سرینگر کے مقامی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے اور ان کی منتقلی سے ان نظر بندوںکو عدالت میں پیش کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس قدم سے حکام جان بوجھ کر ان کے قید و بند کی مدت کو طول دینا چاہتی ہے جو ہر لحاظ سے افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں سالہا سال سے مقید ہزاروں کشمیری نظر بندوں کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ان قیدیوںکو جنیوا کنونشن کے تحت حاصل سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے اور دوسری طرف ان کو عدالتوں میں مقررہ تاریخوں پر پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے ۔انہوں نے تہاڑ جیل دلی ، کٹھوعہ ، ہیرا نگر، سینٹرل جیل سرینگر ، کورٹ بلوال اور دیگر جیلوں میں مقید قیدیوںکے عزم و استقلال کو سلام پیش کرتے ہوئے تمام نظر بندوںکی بلا مشروط رہائی کا اپنا اصولی مطالبہ دہرایا۔قائدین نے انسانی حقوق کی محافظ عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ، آئی سی آر سی وغیرہ سے اپیل کی کہ وہ کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار کا سنجیدہ نوٹس لیں اورانکی باعزت رہائی یقینی بنانے کیلئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔اس موقعہ پر قیدیوں کے والدین ، عزیز و اقارب، متعدد مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں جن میں مشتاق احمد صوفی، حکیم عبدالرشید، محمد یاسین عطائی، نور محمد کلوال، شیخ عبدالرشید، عبدالمجید وانی،رمیز راجہ، عمر عادل ڈار،محمد یوسف نقاش،مولوی بشیر احمد،فیرواز احمد خان، ایڈوکیٹ شیخ یاسر دلال، امتیاز احمد شاہ، خواجہ فردوس احمد وانی، سید محمد شفیع،محمد سلیم زرگر، غلام حسن میر،محمد شبیر لون اورشہر خاص کے تاجر برادری کے سرکردہ افراد کے علاوہ علاقہ بھر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں