سرحدوں پر تنائو اور بات چیت کا انکار

سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر لوگوں میں زبردست تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ہرایک کی خواہش رہتی ہے کہ ہر صورت میں امن و امان قایم رہے تاکہ عوام کو روز مرہ کی زندگی گذارنے کا بھرپور موقعہ مل سکے۔ جموں میں تقریباًایک برس تک کنٹرول لائین اور بین الاقوامی سرحد پر شدید گولہ باری کے نتیجے میں سرحدی آبادی مشکلات سے مسلسل دوچار ہے۔ ہزاروں لوگ اپنے بال بچوں سمیت عارضی رہایش گاہوں میں پناہ گزین ہیں۔ ان کا کاروبار ختم ہوگیا ہے ان کی کھیتی باڈی کا سلسلہ اب کہیں نظر نہیں آرہا ہے ان کے بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان کو گونا گوں مسایل کا سامنا ہے۔ آر پار گولہ باری سے قیمتی جانیں تلف ہورہی ہیں۔ گولہ باری سے نہ صرف عام شہری مارے جارہے ہیں بلکہ فوجی بھی مررہے ہیں اور اس سے ہر روز تنائو بڑھتا جارہا ہے۔ سرحدوں پر گولہ باری اب جموں سے نکل کر وادی تک آپہنچی ہے یہاں بھی اوڑی، بکتور، حاجی پیر اور نکیال اور ٹنگڈار سیکٹروں میں گذشتہ کئی دنوں سے گولہ باری کا سلسلہ برابر جاری ہے جس پر قابو پانے کی کوششیں بے کار ثابت ہورہی ہیں۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیا جا چکا ہے کہ اوڑی میں کئی ہزار لوگوں کو گولہ باری کے نتیجے میں نقل مکانی کرنا پڑی اور ان کو خالی سکول عمارتوں میں قیام و طعام کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ان کے بچے سکول نہیں جاسکتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ کھیتی باڈی سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ یہ سب دیکھتے ہوئے اور اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے کوششیں لازمی ہیں اور سب سے پہلے صرف بات چیت کا خیال ذہن میں آتا ہے لیکن یہ امرباعث تعجب ہے کہ بی جے پی کا ایک ذمہ دار لیڈر کہتا ہے کہ بات چیت کرنے یا نہ کرنے کا حق صرف مرکز کو ہے اس طرح اس نے نئی کنٹروورسی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی ہر اس آواز کے ساتھ آواز ملاتی جس میں بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہو لیکن اس معاملے پر بھی جس طرح اس پارٹی نے سیاست شروع کردی ہے اس پر ہر مکتب فکر کی طرف سے افسوس کا اظہار کیاجارہا ہے کیونکہ معاملہ کچھ بھی ہو بات چیت سے ہی مسایل کا حل تلاش کیاجاسکتا ہے۔ کل ہی مرکز کی طرف سے کشمیر پر نامزد کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما نے پاکستان کے ساتھ فوری طور بات چیت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسی سے سرحدوں پر جاری گولہ باری میں ٹھہراو آسکتا ہے اور ہلاکتیں بند ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران سرحدوں کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو پاکستان کے ساتھ فوری طور بات چیت شروع کرنی چاہئے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’’ مجھے کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا کام سونپا گیا ہے سو میں وہ کام کرتا ہوں اور مرکز کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے چاہئیں کیونکہ اسی سے سرحدوں پر موجودہ تنائو ختم ہوسکتا ہے اور دوسرے مسایل بھی حل ہوسکتے ہیں‘‘ ۔جب ہر طرف سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کا مطالبہ اور خواہش کا اظہار کیاجاتا ہو تو پھر بی جے پی کیونکر اس معاملے میں سیاست کررہی ہے ۔کیایہ پارٹی بات چیت کیخلاف ہے ؟

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں