ہندپاک تعلقات میں بہتری کے امکانات

بھارت کی طرف سے پاکستان کو عالمی تجارتی کانفرنس میں شرکت کی دعو ت اسلام آباد نے قبول کرلی- پاکستان کے وزیر تجارت پرویز ملک کانفرنس میں شرکت کیلئے 19/ مارچ کو نئی دہلی پہنچ رہے ہیں- اس سال پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم ہند نریندرمودی کی شرکت متوقع
نئی دہلی /بھارت پا کستان کے ما بین اعتماد سازی کی بحالی پر مذا کرات شروع ہو نے اورخطے میں کشید گی اور تناؤ کا ما حول ختم ہو نے کے آ ثار اس وقت پیدا ہو ئے جب بھارت نے ورلڈ ٹر یڈ آ رگنائیزیشن کی دو روزہ میٹنگ میں پا کستان کو شر کت کیلئے مدعوکیا، پا کستا نی وزیر تجا رت نے ٹویٹ کر تے ہو ئے اس بات کی تصد یق کی کہ وہ اگلے ماہ بھارت کا دورہ کریں گے اوردو روزہ میٹنگ کے دوران اپنے ملک کے وفد کی قیا دت کریگے ۔ جنو بی ایشیا کے دو بڑے ملکوں بھارت پا کستان کے درمیاں تعلقات میں برف پگھلنے کے آثار اس وقت دکھا ئی دینے لگے جب بھارت کی مر کزی حکو مت نے پا کستان کے سا تھ بات چیت کر نے کے با رے میں ہاں اور نا کے طو یل عر صے کے بعد پاکستان کو ورلڈ ٹریڈ آرگنا ئیزیشن کی دو روزہ میٹنگ میں شر کت کی دعوت دے ڈالی ۔بھارت کے وزارت خا رجہ نے اس بات کی تصد یق کی کہ دو روزہ تجا رتی کانفر نس میں پا کستان کو مدعو کیا گیا ہے ۔ اس کا نفر نس کے دوران بھارت پا کستا ن کے در میان تجا رت کو دو طرفہ بنیادوں پر لے جا نے کے ساتھ ساتھ دوسرے امورات پر بھی تبا دلہ خیال کیا جا ئے گا ۔پاکستان کے وزیر تجا رت پر ویز ملک نے 19اور20ما رچ کو بھارت کی راجدھا نی نئی دہلی میں والڈ ٹریڈ آرگنا ئیزیشن کی میٹنگ میں شر کت کی تصد یق کر تے ہو ئے کہا کہ وہ آ ئیندہ ماہ ایک اعلیٰ سطحٰ وفد لیکر بھارت کا دورہ کریگے اور میٹنگ کے دوران پاکستان کے مو قف کو اجا گر کریں گے۔نئی دہلی میں اعلی سیاسی حلقوں کو اس بات کی امید ہے کہ اس سال کے آخر پر اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں بھارت کے وزیر اعظم کی شرکت کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں کیونکہ بھارت نے جس طرح پاکستانی وزیر کو شرکت کی دعوت دی ہے اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کے تئیں بھارت کے سخت روے میں بتدریج کمی آتی جارہی ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت اور دوسرے جنوبی ایشائی ممالک جو سارک کے ممبر ہیں نے گذشتہ برس پاکستان میں منعقد ہونے والے سارک سربراہ اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا جس کی بنا پر وہ اجلاس منعقد نہیں ہوسکا ۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف جو سخت پالیسی اختیار کی تھی اس میں اب بتدریج تبدیلی آتی جارہی ہے ۔نئی دہلی میں سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ پاکستان/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ملکوں نے ان قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کا اظہار کیا ہے جو دونوں ملکوں کی جیلوں میں نظربند ہیں جن میں حساس قیدی بھی شامل ہیں ۔سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس وقت کے خارجی امور کے مشیر سرتاج عزیز ایسے پاکستانی لیڈر تھے جنہوں نے امرتسر میں سال 2016کے دوران منعقدہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی تھی ۔پاکستان کے وزیر تجارت پرویز ملک نئی دہلی میں قیام کے دوران اپنے بھارتی ہم منصب سریش پربھو کے ساتھ الگ سے ملاقات کرینگے ۔البتہ یہ واضح نہیں کہ آیا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان مہمان کا خیر مقدم کرینگے یا نہیں ۔این ڈی حکومت اپنے دور کے آخر ی سال میں داخل ہوگئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے مثبت اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں ۔بھارت کی جا نب سے پاکستان کو دو روزہ میٹنگ میں مدعو کر نے پر سیا سی تنظیموں کے لیڈروں نے ملا جلا رد عمل ظا ہر کیا ۔کا نگر یس نے مر کزی حکو مت کے فیصلے کو جلد با زی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہو ئے کہا کہ مر کزی حکو مت بار بار یہ ارادہ کر چکی ہے کہ بندوق کی گن گرج اور بھارت کے خلاف در پردہ جنگ کے بیچ پاکستان کے سا تھ بات چیت نہیں ہو سکتی ہے ۔کانگر یس کے مطا بق مر کزی حکو مت کے فیصلے سے ملک کے عوام کو کا فی ما یو سی ہو ئی ہے ۔ادھر پی ڈی ایف کے سر براہ اور خانصاحب حلقے کے ممبر اسمبلی حکیم یا سین نے بھارت پاکستان کے ما بین بات چیت شروع ہو نے پر خو شی کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ اس سے خطے میں کشید گی اور تناؤ کا ما حول کم ہو گا اور دونوں مما لک کے در میاں سر کاری سطح پر رابطہ ہو نے سے خطے کی صورتحال یکسر بدل جا ئے گی اور اس کا لا زمی اثر ریاست جموں کشمیر پربھی پڑے گا۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور بارہمولہ حلقے کے ممبر اسمبلی جا وید حسین بیگ نے بھارت پاکستان کے ما بین بات چیت شروع ہو نے پر دلی مسر ت کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ پا کستان کو بھارت کی جا نب سے مدعو کر نے کے اس فیصلے کا بھر پور فا ئدہ اٹھا نا چا ہئے اور ایساکو ئی انہو نی واقع رو نما ئ نہیں ہو نا چا ہئے جس سے دو نوں مما لک کے ما بین تلخیاں مزید بڑھ سکیں ۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ کتنا اچھا ہو تا کہ اگر دونوں مما لک کشمیر مسئلے کے حل کیلئے با معنیٰ اور نتا ئج خیز مذا کرات شروع کر تے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں