پولیس سٹیشن ترال میں لرزہ خیز دھماکہ ، تھانے میں بند جنگجو جاں بحق- نظربندجنگجو نے فرار ہونے کی کوشش کی جس دوران باہر سے اسکے ساتھیوں نے گرینیڈ داغا :پولیس ترجمان

جنوبی کشمیر/نیاز حسین /کے این ایس /محبوس جنگجوکوفرارہونے کاموقعہ فراہم کرنے کی کوشش کے تحت نامعلوم افرادنے پولیس تھانہ ترال کے اندرگرینیڈپھینکاجوسماعت شکن دھماکے کیساتھ پھٹ گیا،جس دوران گرفتارشدہ مقامی جنگجو مشتاق چوپان ازجان اورایک پولیس اہلکاشدیدزخمی ہوگیا۔ حملے کے فوراًبعدپولیس ،فورسزاورفوج نے پورے قصبہ ترال کومحاصرے میں لیکرتلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔پُراسراردھماکے میں مقامی جنگجوکی ہلاکت کیخلاف قصبہ ترال میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ مہلوک جنگجومشتاق چوپان کے آبائی گائوں میں مشتعل نوجوانوں کی سنگباری کے جواب میں پولیس اورفورسزنے ٹیرگیس شلنگ کی جبکہ مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ۔ادھرپولیس ترجمان نے بتایاکہ حزب جنگجومشتاق چوپان نے برقعہ پہن کرتھانے سے نکلنے کی کوشش کی تواسی دوران ممکنہ طورپراُسکے ساتھیوں نے تھانے کے اندرایک ہتھ گولہ پھینکاجوزورداردھماکے کیساتھ پھٹ گیا،اوراسکی زدمیں آکر فرارہونے کی کوشش کرنے والا جنگجو مشتاق چوپان موقعہ پرہی ازجان ہوگیاجبکہ ایک پولیس کانسٹیبل معراج الدین زخمی ہوگیا۔پولیس ترجمان نے کہاکہ اس واقعے کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکئے گئے تاکہ اسبات کاسراغ لگایاجاسکے کہ مہلوک جنگجوکے فرارہونے کے درپردہ کیامحرکات ہیں ۔خیال رہے اسی نوعیت کے ایک واقعے میں 6فروری کوسینٹرل جیل سری نگرمیں مقیدلشکرکمانڈر/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
نویدجاٹ سری نگرکے صدراسپتال سے فرارہونے میں کامیاب ہوگیاتھا،اورمذکورہ غیرملکی جنگجوکے فرارہونے کے بعدڈی جی پرزنزاورسینٹرل جیل سرینگرکے سُپرانٹنڈنٹ کواپنے عہدوں سے ہٹایاگیاجبکہ بعدازاں سینٹرل جیل سری نگرمیں مقیدکئی غیرملکی جنگجوئوں کویہاں سے جموں منتقل کیاگیا۔اُدھرمقامی لوگوں نے بتایاکہ پولیس تھانے کے اندرسماعت شکن دھماکہ ہونے کے بعدگولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنائی دیں اورممکنہ طورپریہ فائرنگ پولیس تھانے کی حفاظت پرمامورپولیس اورفورسزاہلکاروں نے کی ،جسکے باعث پورے قصبہ ترال میں افراتفری کی صورتحال پیداہوگئی ،اورلوگ بشمول دکاندارادھراُدھربھاگنے لگے تاہم اسی دوران پولیس ،فورسزاورفوج کے درجنوں اہلکاروں نے پورے ترال قصبہ کومحاصرے میں لیکرحملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ۔مقامی لوگوں کے مطابق محاصرے کے دوران قصبہ میں تلاشی لی گئی اورلوگوں سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی لیکن کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔پولیس کے صوبائی سربراہ سوائم پرکاش پانی نے ذرائع ابلاغ کوابتدائی معلومات کی بنیادپربتایاکہ نامعلوم افرادنے پولیس تھانہ ترال کے اندرایک گرینیڈپھنکاتاکہ یہاں بندایک جنگجوکوفرارہونے کاموقعہ فراہم کیاجائے ۔انہوںنے بتایاکہ گرینیڈزورداردھماکے کیساتھ پھٹ گیا،اوراسکی زدمیں آکریہاں مقیدحزب جنگجومشتاق احمدچوپان ازجان ہوگیاجبکہ اُسکی ہتھکڑی کی زنجیر تھامے پولیس اہلکارشدیدزخمی ہوگیا۔آئی جی پی کشمیرنے تاہم واضح کیاکہ اس واقعے سے متعلق مکمل تفصیلات آنے کے بعدہی وہ اصل صورتحال بیان کرپائیں گے ۔اس دوران ڈائریکٹرجنرل پولیس ڈاکٹرشیش پال ویدنے ترال میں پیش آئے واقعے کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرتحریرکردہ اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ پولیس تھانہ ترال سے فرارہونے کی کوشش کرتے ہوئے ایک جنگجوماراگیا۔ڈی جی پی نے ٹویٹ میں لکھاکہ تھانے میں بندپڑے ایک جنگجونے فرارہونے کی کوشش کی تواُسکوتھانے کی سیکورٹی پرمامورپولیس اہلکارنے للکارا،اوراسی دوران فرارہونے کی کوشش کرنے والاجنگجوماراگیا۔ڈاکٹر شیش پال وید نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ و مشتاق احمد چوپان پولیس تھانہ ترال سے فرار ہونے کے دوران گرینیڈ کی زد میں آکر ازجان ہوگیا۔ادھرسری نگرمیں پولیس کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس واقعے سے متعلق قدرے مختلف تفصیلات فراہم کیں ۔پولیس بیان میں بتایاگیاکہ پولیس تھانہ ترال میں بندحزب جنگجومشتاق احمدچوپان نے برقعہ پہن کریہاں سے فرارہونے کی کوشش کی ،اوراُسکومحفوظ راہداری فراہم کرنے کیلئے باہرسے کسی نے ایک گرینیڈپھینکاجوسماعت شکن دھماکے کیساتھ تھانے کی حدودمیں پھٹ گیا۔پولیس ترجمان کے مطابق اسی گرینیڈدھماکے کی زدمیں آکرفرارہونے کی کوشش کرنے والاحزب جنگجوماراگیاجبکہ ایک پولیس اہلکارمعراج الدین زخمی ہوگیا۔پولیس ترجمان کے مطابق گرینیڈحملے کامقصدپولیس اورفورسزکی توجہ کوہٹاناتھاتاکہ مشتاق چوپان نامی جنگجوکوفرارتھانے سے بھاگ جانے کاموقعہ مل سکے لیکن وہ اسی دھماکے کی زدمیں آکرجان گنوابیٹھا۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ حزب المجاہدین سے وابستہ مقامی جنگجومشتاق احمدچوپان کو 7 جنوری2018 کو شمالی کشمیر میں قصبہ سوپورکے ایک مضافاتی علاقہ وٹلب میں دیگر2 افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس ترجمان کے مطابق مشتاق چوپان ساکنہ ترال کیخلاف پولیس تھانے میں ایف آئی آرزیرنمبر55/2017زیردفعہ18،20،38یوایل اے پی ،ایف آئی آرزیرنمبر76/2017 زیردفعہ302آرپی سی ،7/27آرمزایکٹ اور زیردفعہ18،20یوایل اے پی کے تحت کیس درج تھے ۔پولیس ترجمان کے مطابق سوپورسے گرفتارکرنے کے بعدمشتاق چوپان کیخلاف ایک اورایف آئی آرزیرنمبر 10/2018زیردفعہ7/27آرمزایکٹ کے تحت ایک اورکیس درج کیاگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ جنگجوتھانہ پولیس ترال میں بندتھاجبکہ وہ جنگجوئیانہ سرگرمیوں کے سلسلے میں اونتی پورہ پولیس کوبھی مطلوب تھا۔پولیس ترجمان نے کہاکہ سی آرپی سی 176کے تحت اس واقعے کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکئے گئے تاکہ اسبات کاسراغ لگایاجاسکے کہ مہلوک جنگجوکے فرارہونے کے درپردہ کیامحرکات ہیں ۔ادھرترال پولیس اسٹیشن پر گرنیڈ حملے میں جاں بحق مقامی عسکریت پسند کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران عسکریت پسندوں نے اپنے ساتھی کو سلامی دینے کی غرض سے ہوائی فائرنگ کی ۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک جنگجو کو سپرد خاک نہیں کیا گیاتھا ۔ شام دیر گئے انتظامیہ نے مہلوک جنگجو مشتاق احمد چوپان عروف ہارون ساکنہ واگڈ آری پل ترال کی نعش لواحقین کے حوالے کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جنگجو کی نعش کو کاندھوں پر اٹھا کر اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ ترال کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے مقامی عسکریت پسند کی نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران سروں کا سیلاب اُمڑ پڑا ۔اس دوران چند عسکریت پسند نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھی کو سلامی دی ۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک جنگجو کو سپرد خاک نہیں کیا گیاتھا۔ ادھر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے ترال میں پولیس وفورسز کو متحرک کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ واگڈ ترال اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں پولیس وفورسز کو تعینات کیا گیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں