اس مہینے سے سرحدوں پر دراندازی کا سلسلہ شروع ہوا ہے - کپوارہ میں بارڈر ایکشن ٹیم کے منصوبے ناکام بنائے گئےنوجوان مین سٹریم کی طرف آرہے ہیں: کارپس کمانڈر

سرینگر/یوپی آئی /لائن آف کنٹرول اور پر فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے15کارپس کمانڈر نے کہاکہ برف پگھلنے کے ساتھ ہی عسکریت پسند اس طرف آنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ لانچنگ پیڈوں پر بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کو تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے تاکہ انہیں اس طرف دھکیلا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی رینجرس کی جانب سے حد متارکہ پر ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا واحد مقصد جنگجوئوں کو اس طرف دھکیلنا ہے تاہم فوج پاکستان کے منصوبوں سے پوری طرح سے رنگریٹھ میں تقریب کے حاشیہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے 15کارپس کمانڈر ’’لفٹنٹ جنرل اے کے بٹ ‘‘ نے کہاکہ چونکہ رواں سال کے دوران کم برفباری ہوئی اس کو مد نظر رکھتے ہوئے فروری کے مہینے سے ہی سرحدوںپر دراندازی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بڑی تعداد میں جنگجو اس طرف آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کپواڑہ اور ٹنگڈار میں پچھلے کئی روز سے پاکستانی رینجرس ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولہ باری کر رہے ہیں تاکہ عسکریت پسندوں کو اس طرف دھکیلا /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
جاسکے تاہم فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ کور کمانڈر کے مطابق کسی کو بھی اس طرف آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کور کمانڈر نے کہاکہ پاکستانی انتظامیہ نے کئی دیہی علاقوں کے لوگوں کو دوسری جگہ منتقل ہونے کی صلاح دی ہے تاہم باقی علاقوں کے لوگ اپنے گائوں میں ہی موجود ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی فوج امن و امان میں یقین رکھتی ہے تاہم پاکستانی رینجرس کی جانب سے گولہ باری کے بعد اس کا بھر پور جواب دیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ کئی دنوں سے سرحدی ضلع کپواڑہ کے سرحدی علاقوں میں بارڈر ایکشن ٹیم کے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ صورہ اور چرار شریف میں دو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کور کمانڈر نے کہاکہ عسکریت پسند اب آسان ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل کے باعث متعدد جنگجوئوں کو مار گرایا گیا ہے اور آنے والے دنوں کے دوران بھی اسی پر عمل درآمد ہوگا۔ شوپیاں میں تین معصوم شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ فوج لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کیلئے تعینات کی گئی ہے تاہم اگر فوج پر پتھراو ہوتا ہے تو اُس صورت میں جواب دینا پڑتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جب فوجی اہلکاروں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو وہ اسی صورت میں جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز پر پتھراو کرنے کے دوران فورسز اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا احتمال ہوتا ہے ۔ مقامی نوجوانوں کی جانب سے عسکریت پسند صفوں میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کور کمانڈر نے کہاکہ آج کا نوجوان اب فوج میں بھرتی ہو رہا ہے تاکہ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبو ط بنایاجاسکے۔ انہوںنے کہاکہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں امن و امان قائم کرنے کیلئے فوج اپنی خدمات خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ لوگوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا میری پہلی ترجیح ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ ریاست خاص کروا دی کشمیر کے نوجوان اب مین اسٹریم کی طرف آرہے ہیں جو ایک خوش آئند اقدام ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں