شام میں 30روزہ جنگ بندی کی قرارداد اقوام متحدہ میں منظور

اقوام متحدہ/25فروری﴿یو این آئی﴾ شام کے مشرقی غوطہ میں قتل و غارت گری کے بعد بالآخر سلامتی کونسل نے وہاں جنگ بندی کا اعلان کردیا۔چونکہ وہاں دونوں دھڑے بشار الاسد اور ان ان کے حامی روس اور باغی جنگ بندی میں بار بار رخنہ ڈال رہے تھے ۔اوراب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس میں شام میں 30روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پندرہ ارکان پر مشتمل کونسل نے امداد کی ترسیل اور طبی بنیادوں پر انخلا کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔یہ قرارداد شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ بمباری کے تناظر میں پیش کی گئی تھی تاہم ووٹنگ کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ فضائی بمباری مسلسل جاری ہے ۔ اس معاملہ پر ووٹنگ جمعرات کے بعد سے کئی مرتبہ تاخیر کا شکار ہو چکی ہے کیونکہ ارکان کسی معاہدے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے ۔ شام کا سب سے بڑا اتحادی ملک روس اس قرارداد میں تبدیلی چاہتا تھا، جبکہ مغربی ممالک نے روس پر وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی پر فوراً عمل کیا جائے لیکن ساتھ میں انھیں جنگ بندی کے حوالے سے شام پر شک بھی ہے ۔ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو اس قرارداد کے منظور ہونے کے چند منٹ بعد ہی مشرقی غوطہ پر فضائی بمباری کی گئی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ نے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ بمباری کی ہے جس میں اب تک پانچ سو عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ سیرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں مرنے والوں میں 121بچے شامل ہیں۔ روسی افواج کی مدد سے شامی حکومت کی فورسز نے اٹھارہ فروری کو بمباری شروع کی تھی۔ کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودہ میں اس قرارداد کے منظور کیے جانے کے 72گھنٹوں بعد 30دن کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔اس کے 48گھنٹوں بعد طبی بنیادوں پر انخلا اور امدادی سامان کی ترسیل کا آغاز کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق پانچ عشاریہ چھ ملین لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے ۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے مسودہ میں چند تبدیلیاں کی تھیں لیکن سویڈن کے اقوام متحدہ میں سفیر اولاف سکوگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشرقی غوطہ میں امداد پہنچانا سب سے بنیادی مقصد ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں