وادی کی سرحدیں بھی اب آگ اُگلنے لگیں

ان ہی کالموں میں بار بار اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ کنٹرول لائین پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان جو گولہ باری کا تبادلہ ہورہا ہے وہ کسی بھی صورت میں دونوں ملکوں کے حق میں نہیں ہے کیونکہ جنگ و جدل سے تباہی ہی ہوتی ہے۔ جس کا احساس خالصاًدونوں حکومتوں کو نہیں ہے آج کل مختلف سیکٹروں میں جس طرح گولہ باری کی جارہی اور ہلاکتیں ہورہی ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوسکتے ہیں۔ جموں کے نوشہرہ، راجوری، پونچھ اور مینڈھر سیکٹروں میں کنٹرول لائین پر گولہ باری کے بعد اب وادی کے اوڑی اور دوسرے سیکٹروں میں جس طرح نئے سرے سے گولے برسائے جارہے ہیں وہ باعث تشویش ہے کیونکہ اوڑی میں جنگ کا سا سماں پیدا ہوگیا ہے اور سرحدی دیہات میں رہنے والے لوگ نقل مکانی کرگئے ہیں ان کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ حاجی پیر اورنکیال کے علاوہ اب بگتور سیکٹر بھی ابلنے لگا ہے۔ دفاعی ترجمان کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوج کنٹرول لائین پر سال 2003کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے جبکہ اسلام آباد میں بھی فوجی ذرایع کی طرف سے بھارت پر اسی نوعیت کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں۔ عام لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ کون سچ کہہ رہا ہے اور کون جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے لیکن اتنا ضرور ہے اور جیسا کہ عام لوگ بھی سوچتے ہیں جنگ کسی بھی صورت میں کسی مسلئے کا حل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس کیلئے صرف بات چیت ہی واحد راستہ ہے جس سے مسلئے حل ہو بھی سکتے ہیں اور حل کئے بھی جاسکتے ہیں۔ کل ہی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر پاکستان کے قومی سلامتی مشیر ناصر خان جنجوا کا وہ بیان شایع ہوا ہے جس میں انہوں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کی شدید خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ اس سے تمام مسایل حل ہوسکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک اس کیلئے کوئی واضح اشارہ تک نہیں مل رہا ہے۔ بلکہ صرف میڈیا میں ہی امن و امان کے قیام کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی باتیں ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اوڑی، حاجی پیر اور نکیال سیکٹروں میں فریقین کی طرف سے بھاری توپ خانے کا استعمال کیاجارہا ہے۔ جس سے بہت زیادہ تباہی مچ گئی ہے درجنوں رہایشی مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں اگرچہ اس دوران ایک شہر ی جاں بحق بھی ہوا ہے لیکن جن کے سروں پر چھت نہیں رہی وہ کہاں جاینگے اور کون ان کی فریا د سنے گا۔ وقتی طور پر ان کو خالی سکول عمارتوں اور دوسرے سرکاری ڈھانچوں میں رہایشی سہولیات تو فراہم کی گئیں لیکن ان کو مستقل طور پر بسانے کی ضرورت ہے۔ اور وہ بھی عام لوگوں جیسی زندگیاں گذارنے کا حق رکھتے ہیں لیکن جب تک سرحدوں پر گولوں کی گھن گرج اور گولیوں کی سنسناہٹ جاری ہے تب تک سرحدی آبادی کو چین و سکون نہیں مل سکتا ہے اسلئے امن وامان کے قیام کیلئے اور اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات کو ہمیشہ کی بنیادوں پر قایم رکھنے کیلئے بھارت اور پاکستان کی لیڈر شپ پر یہ فرض عاید ہوتا ہے کہ وہ صرف بات چیت کاراستہ اپنا ئیں کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام، یمن، سوڈان اور دوسرے ممالک میں جنگ و جدل سے کیسی تباہی مچی ہوئی ہے۔ کہیں یہاں بھی ایسا نہ ہو اسلئے اعتماد سازی اقدامات کے تحت دونوں ملکوں کو فوری طور بات چیت شروع کرنی چاہئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں