حریت’گ‘ کی مجلس شوریٰ کی میٹنگ پر قدغن سرکار پر سیاسی غیر یقینیت اور عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام

سرینگر/حریت کانفرنس ’گ‘نے چیرمین حریت سید علی گیلانی کی طرف سے بلائے گئے مجلس شوریٰ کے اجلاس پر انتظامیہ کی طرف سے پابندی لگانے کی کارروائی اور حریت قائدین اور کارکنان کی گرفتاریوں کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔حریت نے کہا کہ حکومت بند کمروں میں بات کرنے پربھی پابندی لگاکر ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے اور اس پالیسی کی وجہ سے ریاست کی سیاسی غیریقینیت اور عدمِ استحکام کی صورتحال میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ جمہوری طرز کے پروگراموں پر پابندی عائد کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حریت کانفرنس نے کہا کہ یہ آزادیٔ اظہارِ رائے پر پابندی ہے اور اس پابندی کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ جموں کشمیر کے سنگین حالات اور ریاستی جبروتشدد کی پردہ پوشی کرنا ہے اور دنیا کو یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور یہاں کسی بھی طرف سے اپنے حقوق کے لیے کوئی آواز بلند نہیں ہورہی ہے اور یہاں بھارت کی ’’جمہوریت‘‘ کا راج قائم ہے۔ حریت چیرمین سید علی گیلانی صاحب نے حیدرپورہ میں حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں ریاست کی موجودہ گھمبیر صورتحال کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنا تھا، مگر پولیس نے پابندی لگاکر تحریک حریت صدردفاتر واقع حیدرپورہ کو مکمل طور سیل کردیا گیا اور کسی بھی فرد کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس پورے علاقے میں سرکاری فورسز کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کرکے جنگ جیسی صورتحال پیدا کردی گئی۔ حریت کانفرنس کے مجوزہ اجلاس کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے محمد اشرف صحرائی اپنے گھروں میں نظربند کردیا، جبکہ حریت ترجمان غلام احمد گلزار، محمد اشرف لایا اور بلال احمد صدیقی کو بالترتیب شیر گھڑی، صدر اور راجباغ تھانوں میں مقید کیا گیا ۔پولیس پابندی کے بعد حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کے ارکان حریت صدر دفتر پر سیکریٹری جنرل حاجی غلام نبی سمجھی کی سربراہی میں غیر رسمی طور صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے، یہاں بھی پولیس کی بھاری جمعیت نے دھاوا بول کر حریت قائدین کو منتشر کرکے حریت کانفرنس کے صدر دفتر پر بھی پہرہ بٹھا دیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں