امریکی سفارتخانہ اسی سال مئی میں یروشلم منتقل ہوجائے گا

واشنگٹن/ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سفارتخانے کا کھلنا اسرائیل کی 70ویں سالگرہ کے موقعے پر ہوگا۔ یاد رہے کہ اس نئے اعلان کے مطابق گذشتہ دسمبر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ تاریخ کو اس سال پہلے لایا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا تھا کہ 2019کے آخر تک امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا جائے گا۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دسمبر میں یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ سفارتخانہ اتنی جلدی منتقل نہیں کیا جائے گا۔ جمعے کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس اعلان کے ردِعمل میں کہا کہ یہ اسرائیلی عوام کے لیے ایک بہترین دن ہے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ فی الحال سفارتخانہ یروشلم میں موجود امریکی قونصل خانے میں منتقل کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران شہر کے مشرقی حصے کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور پورے یروشلم کو وہ غیر منقسم دارالحکومت کے طور پر دیکھتا ہے۔ادھر فلسطینی یروشلم شہر کے مشرقی حصے کو مستقبل میں اپنی ریاست کے دارالحکومت کے طور دیکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں امریکہ نے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر یروشلم کو تسلیم کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔ سیکیورٹی کونسل کے دیگر 14 اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔ یہ قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ بین الاقوامی اتفاق رائے سے انحراف کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔ ان کے اس اقدام کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں