حاجی پیر اور نکیال سیکٹر میں جنگ کا سماں بھاری توپوں کا استعمال ، ایک شہری ہلاک ، کئی مکان منہدم لاوڈ سپیکروں کے ذریعے مکینوں کو منتقل ہونے کی صلاح

سرینگر/کے این ایس /بھارت اور پاکستان کی افواج نے کنٹرول لائن حاجی پیر اور نکیا ل سیکٹر میں توپ کھانوں کے دہانے کھول دئے ۔سنیچر کی صبح شدید نوعیت کی ماٹر شلنگ اور توپ کے گولوں کی بارش کے نتیجے میں آر پار ایک در جن سے زیادہ رہائشی و غیر رہائشی عمارات زمین بوس ہو گئی ،جبکہ نکیال سیکٹر مین فائرنگ و شلنگ کی زد میں آکر ایک شہری از جان اور دیگر کئی زخمی ہو گئے ۔پاکستانی فوج کی جانب سے لا وڈ اسپیکروں کے زریعے جنگی نو عیت کے اعلانات کے بعد اوڑی کے سر حدی علاقوں میں افراتفری اور بھاگم بھاگ کی صورتحال پیدا ہو ئی اور ہنگامی طور پر تقریباً150سے زیادہ افراد کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ارنکل مکانی کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران آر پار کی سیول اور پولیس انتظامیہ نے سر حدی علاقوں میں ہنگامی صورتحال کا بغل بجاتے ہو ئے شہریوں کے انخلا کا عمل بڑے پیمانے پر شروع کر دیا ہے ۔ ہندو پاک افواج کے در میان جموں کے سر حدی علاقے سچیت گڑھ میں فلیگ میٹنگ کے باو جود سنیچر کو اوڑی کے حاجی پیر،تلواری ،سلی کوٹ اورچرانڈا کے سر حدی علاقوں میں ہندو پاک افواج نے ایک دو سری کی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے شدید گولہ باری کا تبادلہ کیا اور اس دوران شدید نو عیت کی توپ اور مارٹر گولوں کی شلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں حد متارکہ کے آر پار رہائش پزیر آبادی میں دہشت کی لہر دوڈ گئی ۔توپ اور مارٹرکے گولوں کی بارش کے نتیجے میں آر پار ایک در جن سے زیادہ رہائشی و غیر رہائشی عمارات زمین بوس ہو گئی۔معلو م ہوا ہے کہ سنیچر ی صبح سے ہی اوڑی کے ھاجی پیر ،چراندا ،سلی کوٹ ،تلواری کے علاقوں میں پاکستانی فوج نے گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا جو آخری /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
اطلاعات مو صول ہو نے تک جاری تھی ۔تازہ گولہ بھاری سے بچنے کے لئے اوڑی کے ان سیکٹروں میں کئی دیہات سے لوگوں نے نکل مکانی کی ہے ۔ادھر اطلاعات کے مطابق اوڑی میں حد متارکہ پر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سر حدی علاقوں سے لاوڈ اسپیکروں کے زریعے کئے جارہے اعلانات اس پار سنے گئے جس میں ان علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں سے کہا گیا کہ وہ علاقہ چھوڈ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں ۔حدمتارکہ پرہندوپاک افواج کے در میان شدید نو عیت کی گولہ باری کے بیچ اوڑی کے سرحدی علاقوں سے سنیچرکی صبح سے لگ بھگ150افرادنے نقل مکانی کردی‘‘ ہے جبکہ ابھی بھی لوگوں کے محفوظ جگہوں پرمنتقل ہونے کاسلسلہ جاری ہے۔بتایاجاتاہے کہ اوڑی میں کئی سرحدی دیہات مکمل طورپر خالی ہوگئے ہیں ،اوراب متعلقہ پولیس وسیول حکام نقل مکانی کرچکے شہریوں کیلئے قیام وطعام کاانتظام کرنے میں مصروف ہیں ۔ادھر پاکستانی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج نے 12کلومیٹر دور گائوں پر شدید شلنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شہری فاروق احمد جاں بحق ہو ا جبکہ دیگر 3افراد زخمی ہو ئے جنہیں علاج و معالجہ کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا ۔ ادھر اوڑی کی انتظامیہ نے کئی سرحدی دیہات سے لگ بھگ700افرادکے محفوظ مقامات پرچلے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اعلیٰ سیول وپولیس حکام نقل مکانی کرنے والوں کیلئے لازمی سہولیات کابندوبست کررہے ہیں ۔جبکہ جمعہ کو ڈپٹی کمشنربارہمولہ ناصراحمدنقاش اورایس ایس پی بارہمولہ امتیازحسین نے متواتر فائرنگ وشلنگ کے بعدمحفوظ جگہوں پرمنتقل ہوئے کنبوں کے افرادکودرپیش مشکلات اوردرکارضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ کنٹرول کے نزدیک واقع لگ بھگ نصف درجن دیہات خالی ہوگئے ہیں کیونکہ ہندوپاک افواج کے درمیان حالیہ کئی دنوں سے شدیدگولہ باری اورمارٹرشلنگ کاتبادلہ جاری رہنے کے بعددرجنوں کنبے جان بچانے کیلئے محفوظ جگہوں پرمنتقل ہوچکے ہیں ۔معلوم ہواکہ جمعرات کودونوں افواج کے درمیان گولہ باری اورشلنگ کاشدیدتبادلہ ہونے کے دوران کئی مارٹرشل تلواری اوراسکے نواحی دیہات میں آگے جبکہ مکانات بھی شدیدفائرنگ اورشلنگ کی زدمیں آئے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ مارٹرشل اورگولیاں متعددمکانات کی دیواروں کوچیرتے ہوئے نکل گئے اورمعجزاتی طورپراس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع نے بتایاکہ سنیچر کوکئی آبادی والے علاقوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے داغے گئے مارٹرشل گرنے کے نتیجے میں سخت خوف وہراس کی صورتحال پیداہوئی اور تازہ شلنگ کے نتیجے میں ان علاقوں میں 5سے زیادہ تعمیراتی ڈھانچے منہدم ہو ئے ۔انہوں نے کہاکہ سوموارسے پاکستانی فوج نے فائرنگ اورشلنگ کاسلسلہ جاری رکھاہواہے ،جسکے باعث متاثرہ سرحدی دیہات میں عدم تحفظ کی لہردوڑ گئی اوربڑی تعدادمیں لوگ نقل مکانی کرنے پرمجبورہوگئے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ سرحدی دیہات سے نقل مکانی کرنے والے کنبوں کیلئے اوڑی قصبہ میں واقع گورنمنٹ گر لز ہائراسکنڈری اسکول میں ہنگامی کیمپ قائم کئے گئے جہاں نقل مکانی کرنے والوں کیلئے انتظامات کئے گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سیول حکام نے اوڑی پہنچنے والے افرادکی رجسٹریشن کاکام شروع کردیاہے تاکہ اُن کے قیام وطعام کیلئے فوری اقدامات اُٹھائے جاسکیں ۔ ۔اس دوران معلوم ہواکہ ہائراسکنڈری اسکول اوڑی کے کلاس رومزکورہائشی کمروں میں تبدیل کیاگیاہے اوریہاں فرش بچھانے کے ساتھ ساتھ یہاں عارضی طورمقیم ہونے والے کنبوں کیلئے بستروں اورکملوںکاانتظام کیاگیاہے جبکہ اسکول کے احاطے میں ہی ایک لنگربھی چالوکیاگیاہے تاکہ نقل مکانی کرنے والے افرادکوکھانے پینے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں