درجہ فہرست ذاتوں کو نسل در نسل بیک وارڈ سرٹفکیٹ کا فائدہ کب تک جاری رہیگا؟ عام زمروں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری نوکریوں سے محروم

سرینگر/سی این ایس / درجہ فہرست زاتوں کونسل درنسل بیکورڈ سرٹیفکیٹ کا فائدہ ملنے سے عام ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف نا انصافی ہورہی ہے بلکہ وہ مشکلاً ہی کوئی سرکاری نوکری یا مرعات حاصل کرپاتے ہیں ، تفصیلات کے مطابق ملک کے دوسری ریاستوں کی طرح ریاست جموں وکشمیر میں شیڈول کاسٹ ، شیڈول ٹرائب اور بیکوارڈ زمروں کا رواج لاگو ہے ۔ اور گذشتہ 3دہائیوں سے ریاست میںان کیلئے نوکریوں اور دوسرے مراعات حاصل کرنے کی خاطر باضابطہ طور ایک مخصوص کوٹا محفوظ رکھا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان طبقوں سے وابستہ سینکڑوں لوگوںنے سرکاری نوکریاں اور دوسری مراعات حاصل کر رکھی ہیں جانکار اور باحس لوگوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میںعام زمروںسے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین طالب علم نہ صرف سرکاری نوکریوں سے محروم رہے ہیں بلکہ وہ عمر کی حد پار کر کے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔باشعور لوگوں کی یہ بھی رائے ہے کہ ان طبقوں سے وابستہ لوگوں کو یہ حق ایک بار ملنا چاہیے کیونکہ بار بار یہ حق ان کو دینے سے دوسری زاتوں سے تعلق رکھنے والے ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف نا انصافی ہورہی ہے بلکہ اس کے باعث میرٹ کی بھی دھجیاں اڑاجاتی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیکواڈ علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جب اس مخصوص کوٹے سے نوکری یا مراعات حاصل کرتے ہیں تو وہ دور دراز علاقوں سے شہروں اور قصبوں کا رُخ کرتے ہیں جس کے بعد انہیں ان علاقوں میں بھی برابر یہ مراعات فراہم کئے جا رہے ہیں۔ سی این ایس کو ایک تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان کے ایک گروپ نے بتایا کہ شہر سرینگر اور وادی کے دیگر قصبہ جات میں اس طبقے سے وابستہ 65فیصد لوگ سکونت پذیر ہیں جو یہاں بھی اس مخصوص کوٹے کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔
 جبکہ ان کے بچے سرینگر اور دیگر صدر وتحصیل مقامات پر اعلیٰ پرائیویٹ اسکولوں اور دیگر اہم تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جب ان طبقے سے وابستہ لوگ دور دراز علاقوں میں شہروں کا رخ کرتے ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کے تمام مراعات کو ختم کیا جانا چاہیے کیونکہ شہروں اور قصبوں میں رہ کرفارواڈ علاقوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں