ہریانہ میں کشمیری طلبہ پر مسلسل حملوں کیخلاف اپوزیشن کا اسمبلی میں ہنگامہ - سپیکر کی طرف سے قرارداد لانے کی مانگ کو مسترد کرنے کے بعد اپوزیشن کا واک آوٹ ایوان میں حکومت کی کشمیر ی طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی

جموں/کشمیر نیوزسروس/ ہریانہ میں کشمیری طلاب کی مارپیٹ کے معاملے پر اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے شورشرابہ ،نعرے بازی اورہنگامہ آرائی کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ ایسے واقعات کیخلاف ایوان میں ایک قراردادمنظورکرکے وزیراعظم مودی سے مداخلت کی اپیل کی جائے ۔علی محمدساگر،محمدیوسف تاریگامی اوردیگراپوزیشن ممبران /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
نے کہاکہ ریاستی سرکارکشمیریوں کوبیرون ریاستوں میں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔اسپیکرکی جانب سے قراردادلانے کی مانگ کونامنظورکئے جانے کے بعدجملہ اپوزیشن ممبران نے ایوان سے واک آوٹ کیا۔اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے کہاکہ بیرون ریاستوں میں مقیم ریاستی باشندوں کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں ۔ ریاست ہریانہ میں شرپسندوں کی جانب سے ایک اور کشمیری طالب علم کو زدوکوب کرنے کے معاملے پر جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو اپوزیشن کے اراکین نے شدید شور شرابہ کے بعد احتجاج کے بطور ایوان سے واک آوٹ کیا۔ ہریانہ کے ضلع امبالا میں شمالی قصبہ سوپور سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کو اس کے ساتھی طالب علموں کے ایک گروپ نے زدوکوب کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعہ 7 فروری کو یونیورسٹی کیمپس کے نزدیک پیش آیا ہے۔جمعرات کی صبح جوں ہی قانون ساز اسمبلی میں معمول کی کاروائی شروع ہوئی تو نیشنل کانفرنس رکن اسمبلی علی محمد ساگر نے معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہاکہ ہریانہ میں بدھ کے روز کچھ شرپسندوں نے ایک اور کشمیری طالب علم کی پٹائی کی ہے۔علی محمد ساگر کے بعد نیشنل کانفرنس، کانگریس کے اراکین اور ممبراسمبلی کولگام محمدیوسف تاریگامی نے حکومت مخالف نعرے بازی شروع کی۔ انہوں نے واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اپوزیشن ممبران نے مانگ کی کہ اسمبلی میں ایک قراردادلاکروزیراعظم ہندنریندرمودی سے ایسے واقعات کی روکتھام کیلئے مداخلت کرنے کی اپیل کی جائے۔علی محمدساگر نے کہا کہ کشمیریوں کو ریاست سے باہر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ حکومت ان کی سیکورٹی کو یقینی بنانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔محمدیاسف تارگامی نے اسبات پرسخت افسوس کااظہارکیاکہ بیرون ریاستوں میں زیرتعلیم کشمیری طلاب پرہونے والے حملوں کے بارے میں ابتک وزیراعظم مودی نے ایک لفظ تک اپنی زبان پرنہیں لایا۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی وزیراعلیٰ نے بھی ایسے واقعات پرچُپ سادھ لے رکھی ہے جوکہ افسوسناک ہے۔ اس دوران ممبراسمبلی دیونیدرسنگھ رانانے کہاکہ جموں میں ہندوئوںاورمسلمانوں کے درمیان منافرت پیداکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے سرکارسے کہاکہ ابھی کشمیرمیں بحالی امن کی کوششیں بارآورثابت نہیں ہورہی ہیں اوراسی بیچ جموں میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کیلئے سازشیں رچی جارہی ہیں ۔ پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے حکومت کی جانب سے ایوان میں بیان دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم اور تجارت کے سلسلے میں مقیم جموں وکشمیر کے رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اپوزیشن ممبران کی جانب سے ایسے واقعات کیخلاف قراردادلانے کی مانگ کواسپیکرنے نامنظورکردیا،جسکے بعدجملہ اپوزیشن اراکین نے ایوان سے احتجاجاًواک آوٹ کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں