جنسی سیکنڈل کی تحقیقات

اس وقت جبکہ وادی میں حالات کشیدہ ہیں روز کسی نہ کسی علاقے سے ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کولگام میں جنسی سکینڈل کا منظر عام پر آنا ایک اچھنبے سے کم نہیں۔ اس معاملے میں پولیس نے گرفتاریاں عمل میں لائی ہیں اور کہا کہ اس سیکنڈل میں مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں کولگام میں ایک ویڈیو وائیرل ہوگیا ہے جس میں ایک لڑکی جس کا نصف چہرہ نقاب میں چھپا ہوا ہے یہ دعوی کرتی ہے کہ اسے جنسی زیادتیوں کا شکار بنایا گیا ہے اور ایک نہیں کئی بار اس کی عزت و عصمت پر حملے کئے گئے۔ اس لڑکی نے جو کچھ بتایا اس سے ہر ایک کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس بارے میں کولگام پولیس نے بتایا کہ ایک مقامی شخص نے تھانے میں تحریری طور پر یہ رپورٹ درج کی کہ اس کی بیٹی کو اغوا کیاگیا ہے چنانچہ پولیس نے فوری طور حرکت میں اسے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر بر آمد کرکے والدین کے حوالے کردیا اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں اس دوران اس لڑکی اور اس کی والدہ کے دو ویڈیو وائیرل ہوگئے جن میں دونوں ماں بیٹیوں نے کئی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔ انہوں نے کئی بااثر لوگوں کے نام بھی بتادئے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ بھی اس سکینڈل میں ملوث ہیں۔ اس بارے میں جموںمیں جب اخباری نمایندوں نے حلقہ انتخاب نور آباد کے ممبر اسمبلی سے اس سکینڈل کے بارے میں پوچھاتو انہوں نے کہا کہ پولیس کو اس کیس کی تہہ تک پہنچ کر اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرکے انہیں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔ ادھر پولیس نے بھی بتایا کہ اس لڑکی نے جن افراد کے نام ظاہر کئے ان سے لازمی طور پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس سکینڈل میں کون ملوث ہے اور کون نہیں اس سے قطع نظر دیکھنا یہ ہے کہ اس کے پیچھے کون سے محرکات کارفرماہیں اور کہیںیہ کشمیری عوام کو بدنام کرنے کی کوئی سازش تو نہیں۔ کہیں کسی با اثر شخصیت کو بدنام کرنے کی کوششیں تو نہیں کی جارہی ہیں۔ اس سارے معاملے کی تہہ تک جانے کی ضرورت ہے کیونکہ آج تک اس پیمانے پر یہاں کوئی سیکنڈل رونما نہیں ہوا ہے سوائے ایک کے جس میں کئی بڑے بڑے منسٹروں او ربیروکریٹوں کے نام سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد یہ دوسرا ایسا واقعہ ہے جس میں ایک لڑکی ازخود اس بات کا انکشاف کرتی ہے کہ اسے جنسی زیادتیوں کا شکار بنایا جارہا ہے جس میں کئی بااثر شخصیتیں شامل ہیں۔ اس سارے معاملے کو یونہی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس وقت جو حالات وادی میں ہیں ان کو مدنظر رکھ کر اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا اچھنبے سے کم نہیں۔ تحقیقاتی عمل کے دوران اب اگر یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی یہ سکینڈل سچ ہے تو ملوث افراد خواہ وہ کسی بھی پوزیشن کے مالک کیوں نہ ہوں کیخلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے اور انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں