صدر ہسپتال کے باہر شوٹ آوٹ ، 2 پولیس اہلکار ہلاک,

,

,

,

قیدیوں کو علاج معالجے کیلئے ہسپتال لے کر آنیوالی پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ ‘گولیاں چلانے والے جنگجو‘ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے اپنے ساتھی کو لے کر فرار ہونے میں کامیاب ،ایک سپاہی کی رایفل بھی اُڑالی گئی، پورے شہر سرینگر میں ہائی الرٹ، جگہ جگہ ناکہ بندی اور تلاشیاں
سرینگر/کے این ایس/جے کے این ایس/ شہرسری نگرمیں اپنی موجودگی اورسرگرمیوں کااحساس دلاتے ہوئے جنگجوئوں نے صدراسپتال کے باہرقیدیوں کوبغرض علاج یہاں لانے والی ایک پولیس پارٹی پراندھادھندفائرنگ کردی جسکے نتیجے میں 2پولیس اہلکارازجان ہوئے ۔اچانک گولیاں چلنے کے نتیجے میں ہسپتال کے اندراورباہرمچی افراتفری کے بیچ حملہ آورایک گرفتارلشکرجنگجونویدعرف حنظلہ کواپنے ساتھ لینے میں کامیاب ہوگئے ۔ڈی آئی جی وسطی کشمیرنے جنگجوئیانہ حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ حملہ آوروں اورفرارشدہ پاکستانی جنگجوکی تلاش بڑے پیمانے پرشروع کردی گئی ہے ۔اُدھرپولیس سربراہ ڈاکٹرشیش پال ویدنے صدراسپتال کے باہرہوئے جنگجوئیانہ حملے کوافسوناک قراردیتے ہوئے اعلان کیاکہ شہرسری نگرسمیت پوری وادی میں سیکورٹی ریڈالرٹ کردیاگیاہے ۔اس دوران ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات نے صدراسپتال سری نگرکے باہرپیش آئے ہلاکت خیزاواقعے اوراس دوران ایک پاکستانی جنگجوکے فرارہونے کے واقعے کی محکمانہ انکوائری کے احکامات صادرکرتے ہوئے ڈی آئی جی جیل خانہ جات سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔ گرمائی راجدھانی سری نگرشہرمیں منگل کی صبح اسوقت تشویش کی لہرڈورگئی اورجملہ سیکورٹی ایجنسیوں کوہائی الرٹ کردیاگیاجب نامعلوم اسلحہ برداروں نے شہرخاص کی حدودمیں واقع /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 شری مہاراجہ ہری سنگھ ﴿ایس ایم ایچ ایس﴾یعنی صدراسپتال کے شعبہ ائوپی ڈی کے باہراچانک فائرنگ کردی ،جسکے نتیجے میں یہاں طبی معائنے کیلئے لائے گئے6قیدیوں کی حفاظت پرمامورپولیس کے 3اہلکارشدید زخمی ہوگئے جبکہ لشکرطیبہ سے وابستہ ایک گرفتارپاکستانی جنگجونویدجٹ عرف ابوحنظلہ حملہ آوروں کیساتھ فرارہونے میں کامیاب ہوگیا۔عینی شاہدین نے بتایاکہ منگل کی صبح فائرنگ کاواقعہ پیش آنے کے نتیجے میں صدراسپتال کے اندراورباہرخوف وہراس اورافراتفری مچ گئی اوربیماروں وتیمارداروں سمیت سبھی لوگوں نے ادھراُدھربھاگتے دیکھاگیا۔فائرنگ کاواقعہ رونماہونے کے بعدپولیس ،ٹاسک فورس اورفورسزاہلکاروں نے صدراسپتال اوراسکے نزدیکی علاقہ کاکہ سرائے کومحاصرے میں لیکرحملہ آوروں کی تلاش شروع کردی تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ۔خیال رہے فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریاستی پولیس کی ایک پارٹی سینٹرل جیل سری نگر میں مقید قیدیوں کے ایک گروپ کو چیک اپ کے لئے اسپتال لیکر آئی تھی۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ جن قیدیوں کوطبی معائنہ کیلئے منگل کی صبح سینٹرل جیل سری نگرسے صدراسپتال بھیجاگیاتھا،اُن مین سیرت الحسن ولدمحمدالیاس ساکنہ ملارٹہ سرینگر،عبدالاحدراتھرولدعبدالغنی ساکنہ تارزئو سوپور ،محمدیونیدجھاٹھ ولدمحمدحنیف ساکنہ ملتان پاکستان ،محمدخلیل نجار ولد منظوراحمد ساکنہ گوس صفاپورہ ،عارف احمدشیخ ولدغلام محمدساکنہ پارمپورہ سرینگر اوربشیراحمدصالح ولدغلام محمدساکنہ بارہمولہ شامل ہے۔محکمہ جیل خانہ جات کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات نے صدراسپتال سری نگرکے باہرپیش آئے ہلاکت خیزاواقعے اوراس دوران ایک پاکستانی جنگجوکے فرارہونے کے واقعے کی محکمانہ انکوائری کے احکامات صادرکرتے ہوئے ڈی آئی جی جیل خانہ جات سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ ایک ہیڈکانسٹیبل کی سربراہی میں جب تین پولیس اہلکارسینٹرل جیل سری نگرسے نصف درجن قیدیوں کوبغرض علاج ومعالجہ صدراسپتال لیکرپہنچے توجوں ہی پولیس اہلکاروں نے موٹی موٹی زنجیریں پہنے قیدیوں کواسپتال کے اندرلے جانے کی کارروائی شروع کی تواسی دوران نزدیک ہی کھڑے 2جنگجوئوں نے پولیس اہلکاروں پرفائرنگ شروع کردی ،ذرائع کے مطابق اس دوران قیدیوں میں شامل لشکرطیبہ سے وابستہ پاکستانی جنگجونویدجٹ عرف ابوحنظلہ گاڑی سے باہرآیااوراُس نے ایک پولیس اہلکارکی سروس رائفل چھین کرفائرنگ کردی ۔پولیس ذرائع کے مطابق اس اچانک جنگجوئیانہ حملے میں 3پولیس اہلکارزخمی ہوگئے جن میں ایک ہیڈکانسٹیبل بھی شامل ہے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ جب یہ حملہ کیاگیاتوصدراسپتال بیماروں اوراُنکے رشتہ داروں سے کھچاکھچ بھراتھا۔اُدھر قیدیوں کولیکرصدراسپتال پہنچی پولیس پارٹی پرجنگجوئیانہ حملے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی وسطی کشمیرغلام حسن بٹ اورایس ایس پی سرینگرامتیازاسماعیل سمیت پولیس اورفورسزکے کئی حکام یہاں صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے پہنچ گئے۔ صورتحال کاجائزہ لینے کے بعدڈی آئی جی وسطی کشمیرنے صدراسپتال سری نگرکے باہرنامہ نگاروں کوتفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایاکہ پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم جب سینٹرل جیل سری نگرسے کچھ قیدیوں کوطبی معائنے کیلئے یہاں لیکرپہنچی توپولیس اہلکاروں نے ان قیدیوں کے اسپتال ٹکٹ بنوانے شروع کئے لیکن اسی دوران اسلحہ برداروں نے پولیس پارٹی کونشانہ بناتے ہوئے اندھادھندفائرنگ شروع کردی ۔ ڈی آئی جی وسطی کشمیرغلام حسن بٹ کاکہناتھاکہ قیدیوں میں شامل لشکرطیبہ سے وابستہ کٹرپاکستانی جنگجونویدجٹ عرف ابوحنظلہ نے بھی فائرنگ کی ۔تاہم ڈی آئی جی نے واضح کیاکہ اس اچانک حملے کے دوران کسی پولیس اہلکارکی سروس رائفل نہیں چھینی گئی ۔انہوں نے بتایاکہ حملہ کے نتیجے میں پھیلی افراتفری کافائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستانی جنگجونویدجٹ حملہ آوروں کیساتھ فرارہونے میں کامیاب ہوگیا۔اُدھر پولیس حکام کے مطابق لشکرجنگجونویدجٹ کوسینٹرل جیل سے صدراسپتال روانہ کرتے وقت لگ بھگ 2کلووزنی ہتھکڑی پہنائی گئی تھی اوروہ یہ بھاری بھرکم ہتھکڑی لیکرفرارہوگیا۔ ڈی آئی جی وسطی کشمیرغلام حسن بٹ نے مزیدکہاکہ اس جنگجوئیانہ حملے میں پولیس پارٹی میں شامل2اہلکارکانسٹیبل مشتاق احمدبیلٹ نمبر259ساکنہ کرناہ ٹنگڈاراورکانسٹیبل بابراحمدساکنہ برادی شانگس اننت ناگ شدیدطورپرزخمی ہوگئے اوربعدازاں کانسٹیبل مشتاق صدراسپتال میں ہی زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑبیٹھا۔اُدھرمعلوم ہواکہ فائرنگ کے اس واقعے میں زخمی ہوادوسراپولیس اہلکاربابراحمدبھی کچھ وقت تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلائ رہنے کے بعددم توڑبیٹھاجبکہ بتایاجاتاہے کہ اس جنگجوئیانہ حملے میں ایک اورپولیس اہلکاربھی زخمی ہوگیاتاہم پولیس حکام نے اسکی تصدیق نہیں کی ۔ ڈی آئی جی وسطی کشمیرنے صدراسپتال کے باہرنامہ نگاروں کوبتایاکہ پولیس پارٹی پرحملہ کرنے والے جنگجوئوں اورفرارہوئے لشکرجنگجونویدکی بڑے پیمانے پرتلاش شروع کردی گئی ہے اوراس مقصدکیلئے سری نگرسمیت وادی کے سبھی پولیس تھانوں کوہائی الرٹ کردیاگیاہے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ حملہ آوروں اورفرارشدہ لشکرجنگجوکوپکڑنے کیلئے شہرسری نگرمیں سیکورٹی ہائی الرٹ کردیاگیاہے اورشہرکے خروجی اورداخلی راستوں پرچیکنگ تیزکردی گئی ہے ۔اُدھرپولیس ذرائع نے بتایاکہ منگل کی صبح صدراسپتال کے باہرہوئے جنگجوئیانہ حملے کے دوران فرارہوئے پاکستانی جنگجونویدجٹ عرف ابوحنظلہ کوسال2014میں پولیس اورفورسزنے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران جنوبی ضلع کولگام کے بہی باغ علاقہ سے گرفتارکرلیاتھا،اورگزشتہ کچھ برسوں سے اس لشکرجنگجوکوسینٹرل جیل سری نگرمیں بندرکھاگیاتھا۔سیکورٹی حکام نے صدراسپتال سری نگرکے باہرہوئے حملے میں لشکرطیبہ کوملوث قراردیتے ہوئے بتایاکہ ابوحنظلہ کاتعلق لشکرکے وسیم گروپ سے تھا،اوراس گروپ میں شامل جنگجوہلاکتوں اورحملوں کی کئی وارداتوں میں شامل تھے ۔بتایاجاتاہے کہ ریاستی سرکار نے غیرملکی جنگجوئوں کوسینٹرل جیل سرینگرسے کہیں اورواقع ہائی سیکورٹی جیل میں منتقل کرنے کافیصلہ لیاتھالیکن26 دسمبر2017کوسری نگرکی ایک عدالت نے اس فیصلے پرروک لگادی ۔دریں اثنائ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹرشیش پال ویدنے صدراسپتال کے باہرہوئے جنگجوئیانہ حملے کوافسوناک قراردیتے ہوئے کہاکہ حملہ آورایک کٹرپاکستانی جنگجوکوساتھ لیکرفرارہوئے ہیں ۔انہوں نے شہرسری نگرسمیت پوری وادی میں سیکورٹی ریڈالرٹ کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ 2پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث حملہ آوروں اورفرارشدہ جنگجوکی بڑے پیمانے پرتلاش شروع کردی گئی ہے۔

,

,

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں