کیا لوک سبھا انتخابات قبل از وقت ہوں گے ؟

لکھنؤ/5فروری﴿یو این آئی﴾ سیاسی حلقوں میں آج کل سب سے بڑ اسوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ کیا لوک سبھا کے عام انتخابات قبل از وقت ہوں گے ۔ اترپردیش میں بی جے پی ، کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کی طرف سے جار ی انتخابی تیاریوں سے اس طرح کی قیاس آرائیوں کو تقویت مل رہی ہے ۔ ریاست میں مجموعی طورپر 80لوک سبھا سیٹیں ہیں ۔ اس کے لئے ان پارٹیوں نے صوبے میں مسلسل میٹینگیں اور دیگر پروگراموں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔ سیاسی جماعتوں نے امیدواروں کا انتخاب بھی شروع کردیا ہے ۔ بی جے پی نے گذشتہ الیکشن میں 71سیٹیں جیتی تھیں جب کہ اس کی حمایت سے اپنا دل دو سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔ سماج وادی پارٹی نے کچھ امیدواروں کا اعلان بھی کردیا ہے ۔ بی ایس کو 2014کے الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی ۔ بی ایس پی نے ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کی جینتی 14اپریل سے انتخابی تیاریوں کا آغاز کرے گی ۔ حالانکہ محترمہ مایاوتی نے ابھی کسی امیدوار کا نام اعلان نہیں کیا ہے ۔ بی جے پی بھی مسلسل میٹینگیں کررہی ہیں ۔ بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریتری وجے بہادر پاٹھک نے بتایا کہ وہ خود جھانسی میں کارکنوں کی میٹنگیں کررہے ہیں جب کہ دیگر عہدیدار مختلف اضلاع میں اسی طرح کے پروگرام میں شامل ہیں۔ کانگریس کے ریاستی ترجمان ویریندر مدان نے بتایا کہ انتخابی تیاری جاری ہے ۔ بی جے پی کا متبادل صرف کانگریس ہے ۔ ان کا دعوی ہے کہ نریندر مودی اور یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت ناکام ہے ۔ اس کا فائدہ کانگریس کو ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ نومبر میں لوک سبھا الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ایس پی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو کے مین پوری اور صدر اکھلیش یادو کے قنوج سے الیکشن لڑنے کا اعلان ہوچکا ہے ۔ جب کہ رام گوپال یادو کے سنبھل سے الیکشن لڑنے کی امید ہے ۔ 2014کے الیکشن میں سماج وادی پارٹی نے پانچ سیٹیں حاصل کی تھیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں