قانون سازیہ نے ایف آر بی ایم ایکٹ 2006 سے متعلق ترمیمی بِل منظور کیا  حکومت مالی خسارے کو جی ایس ڈی پی کے 3فیصد تک محدود کرے گی

جموں //ریاستی قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں نے آج جموں و کشمیر سٹیٹ فسکل ریسپانسبلٹی اینڈ بجٹ منیجمنٹ ایکٹ 2006 میں ترمیم سے متعلق ایک بل پاس کیا ہے۔یہ بل اس سے پہلے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو نے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جسے زبانی ووٹ کے ذریعے سے پا س کیا گیا۔ترمیمی بل کی رو سے موثر اثاثے قائم کرنے کے علاوہ ان رکھ رکھائو کے لئے کیپٹل ریسپٹس استعمال میں لائے جائیں گے ۔علاوہ ازیں موجودہ مالی خسارے کو محدود کر کے بقایاجات کو کلیئر کیا جائے گا۔بل میں مالی خسارے کی سالانہ حد کو جی ایس ڈی پی برائے سال 2015-16سے لے کر 2019-20 کے تین فیصد تک محدود کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔واضح رہے کہ ایف آر بی ایم ایکٹ 2006 ئ کے ذریعے سے حکومت کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ترقیاتی مالی نظامت کے طور طریقوں کو بروئے کار لا کر مالی نظام میں استحکام لائے ۔اس کی رو سے حکومت کی مالی سرگرمیوں میں مالی استحکام اور کافی حد تک شفافیت لانے کی بات بھی کہی گئی ہے۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو نے بجٹ کے حوالے سے کابینہ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے 2015-16ئ کی بجٹ تقریر میں ایک اعلان کیا تھا اور 2015-16 سے ایف آر بی ایم ایکٹ 2006ئ میں ایک تبدیلی لانے کی تجویز کی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایاجاسکے کہ آئند ہ تین برسوں کے دوران حاصل ہونے والی رقومات کو کیپٹل اثاثے قائم کرنے کے لئے استعمال میں لایا جاسکے۔بِل میں ریاست کے مالی نظام میں معقولیت لانے کے حوالے سے کئی اختراعی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں