ظلم و جبر کیخلاف جدوجہد کرکے جان دینے والے شہید ہیں:گیلانی- جیلوں میں بند حریت پسندوں کی حالت زار پر اظہار تشویش کیا

سرینگر/چیرمین حریت ’گ‘ سید علی گیلانی نے بھارتی افواج کی طرف سے گنو پورہ شوپیان میں بلا اشتعال فائرنگ کرکے دو نہتے نوجوانوں کو شہید کرنے اور درجنوں لوگوں کو زخمی کرنے کے المناک سانحہ کے خلاف عوامی سطح پر غم وغصے کی لہر کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاکر ایک اور نوجوان رئیس احمد گنائی کی شہادت پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا۔ رئیس احمد گنائی کے جلسہ جنازہ سے اپنے ٹیلیفونک خطاب میں حریت چیرمین نے کہا جو لوگ ظلم کے خلاف جدوجہد کرکے اپنے مال، عزت وآبرو بچانے کے لیے جان دیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وہ سب شہید ہیں اور شہید زندہ ہیں انہیں مردہ نہیں کہا جاسکتا۔ حریت راہنما نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے حدود میں بھارت کے فوجی قبضے کے دوران آج تک یہاں بڑی سفاکیت کے ساتھ مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا، وہ بھارت جس نے اپنی جنگ آزادی میں برطانوی سامراج کے ہاتھوں صرف ایک جلیاں والا باغ کا مشاہدہ کیا ہے اس کی قابض فوجیوں نے یہاں ہر روز کسی نہ کسی مقام پر جلیاں والا باغ کی خونین تاریخ دہرانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ حریت راہنما نے ان ہلاکت خیز خونین کارروائیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کی عالمی طاقتوں اور انسان دوست ممالک کو ریاست جموں کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں معصوم عوام کو قتل کئے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے ۔
جہاں بھارت کے مسلح افواج نہتے عوام کے خلاف برسرِ جنگ ہوچکی ہے۔ حریت چیرمین نے اس امر پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نواز سیاسی جماعتیں بشمول پی ڈی پی، بی جے پی، پی سی، این سی وغیرہ یہاں کے معصوم عوام پر ظلم وجبر کرنے کے لیے بھارت کی کلہاڑی کے دستے کی حیثیت سے اُن کی مدد کررہی ہیں اور صرف عیش وعشرت کی زندگی گزارنے کے لیے برسرِ اقتدار رہنا چاہتی ہیں، سید علی گیلانی نے جموں اور خطۂ چناب سے تعلق رکھنے والے حریت پسند محبوسین کے ساتھ جیل حکام کی طرف سے روا رکھی جارہی انتقام گیر پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے اِسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ متعدد جیلوں میں سالہاسال سے مقید ان محبوسین کو فرضی کیسوں میں پھنسا کر ان کی اسیرانہ زندگی کو طول دیا جارہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں