فوجی فائرنگ سے زخمی ہونیوالا ایک اور نوجوان دم توڑ بیٹھا

گنہ پورہ شوپیان میں جاں بحق نوجوانوں کی تعداد 3ہوگئی پورے قصبے میں کہرام ، معصوم نوجوان کی پانچ مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی کریم آباد پلوامہ میں شبانہ کریک ڈائون کے دوران جھڑپیں، مظاہرین پر شلنگ
جنوبی کشمیر/کے این ایس /یو پی آئی /سی این ایس /جے کے این ایس /آرمی فائرنگ میں زخمی ہوئے ایک نوجوان کی موت واقعہ ہوجانے کے بعدضلع شوپیان میں ایک ہفتے سے جاری کشیدگی مزیدبڑھ گئی ۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سے 19سالہ نوجوان رئیس احمد گنائی کی میت پہنچتے ہی نارہ پورہ شوپیان میں کہرام مچ گیااورنزدیکی دیہات سے ہزاروں لوگ یہاں پہنچے ۔لوگوں کی آمدآمدجاری رہنے کے باعث معصوم نوجوان کی نمازجنازہ کم سے کم 5مرتبہ انجام دی گئی ،جسکے بعدرئیس کی میت کواسلام اورآزادی کے نعروں کے بیچ سُپردلحدکیاگیا۔اُدھرممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرقصبہ شوپیان سمیت سبھی حساس علاقوں اورمقامات پرپولیس اورفورسزدستوں کوچوکنارکھاگیاتھا۔ جنوبی ضلع شوپیان میں بدھ کی صبح اُس وقت تازہ کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ،جب گنہ پورہ میں فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا 19سالہ نوجوان رئیس احمد گنائی ولد محمد یوسف ساکنہ نا ر پورہ شوپیان صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں 4روزتک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلائ رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا۔اس طرح گنہ پورہ فائرنگ واقعہ میں جاں بحق نوجوان کی تعداد تین ہوگئی کیونکہ اس سے قبل فائرنگ واقعہ میں جاوید احمد بٹ ساکنہ بالپورہ اور سہیل جاوید لون ساکنہ راولپورہ موقعے پر ہی جاں بحق ہوئے تھے ۔معلوم ہواکہ جاں بحق نوجوان رئیس احمدکی میت جونہی بدھ کی صبح8بجے آبائی گائوں نارپورہ شوپیان پہنچائی گئی ،تو وہاں کہرام اور صف ماتم بچھ گئی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ رئس احمدکے جاں بحق ہوجانے کی خبرپھیلتے ہی نزدیکی دیہات وعلاقہ جات سے ہزاروں کی تعدادمیں لوگ نارپورہ/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 پہنچے اورلوگوں کی آمدآمدکاسلسلہ دوپہرتک جاری رہا۔بتایاجاتاہے کہ یکے بعددیگرے پانچ مرتبہ نمازجنازہ اداکئے جانے کے دوران لوگوں نے آزادی اوراسلام کے حق میں نعرے بلندکئے۔جسکے بعد فلک شگاف نعروں کے بیچ جاں بحق نوجوان کی میت کو سپرد لحد کیا گیا۔دریں اثنا ئ ضلع شوپیان میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے خلاف مسلسل ساتویں روز بھی تعزیتی ہڑتال رہی ۔خیال رہے رواں ماہ کی27تاریخ بروزسنیچروارکوفوج کی10گڑوال سے وابستہ اہلکاروں نے ضلع شوپیان کے گنوپورہ میں پتھربازی کاواقعہ رونماہونے کے بعدمظاہرین اورراہگیروں پرمبینہ طورراست فائرنگ کی تھی ،جسکے نتیجے میں جاویداحمدبٹ اورسہیل احمدلون نامی 2مقامی نوجوان موقعہ پرہی جاں بحق ہوگئے تھے اوربدھ کی صبح صورہ انسٹی چیوٹ میں دم توڑنے والے نوجوان رئیس اور2نوجوان لڑکیوں سمیت کئی شہری زخمی ہوگئے تھے ۔غورطلب ہے کہ پولیس نے فوجی یونٹ اورآرمی میجرکیخلاف قتل ،اقدام قتل اورانسانی جانوں کونقصان پہنچانے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیاہے جبکہ ریاستی سرکارنے گنوپورہ شوپیان ہلاکتوں کے حوالے سے مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادر کردئیے ہیں اورڈپٹی کمشنرشوپیان نے منگل وارسے ہی ہلاکت خیزواقعے سے متعلق اپنی تحقیقات شروع کردی ہے۔ادھر کریم آباد پلوامہ میں ایک مرتبہ پھر شبانہ کریک ڈائون کیلئے آئے فورسز اہلکاروں کو لوگوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس دوران فورسزکو شدید سنگباری کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مظاہرین پرزوردار ٹیر گیس شیلنگ کے نتیجے میں5افراد زخمی ہوئے۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فورسز نے مکانوں، دکانوں، دیگر تعمیرات اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کی شدید توڑ پھوڑ بھی کی۔پلوامہ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ایس او جی ، فوج کی55آر آر اور سی آر پی ایف183بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے منگل کی شب10بجکر45منٹ پرکریم آباد گائوںکو گھیرے میں لیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کواپنے خفیہ ذرائع سے علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی ۔فورسز اور پولیس نے علاقے کی طرف جانے والے تمام راستوں کی سخت ناکہ بندی کی ۔تاہم نمائندے نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکاروں نے جنگجوئوں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا تو لوگ گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے ،انہوں نے فورسز کو تلاشی لینے سے روک دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں آہنی ہتھیار اٹھارکھے تھے۔ فورسز نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھرائو شروع کیا۔ جب سنگباری میں شدت پیدا ہوئی تومظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور اشک آور گیس کے گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں علاقے میںخوف و ہراس پھیل گیا۔ٹیر گیس کے گولوں کی گھن گرج سے نزدیکی علاقوں کے لوگ بھی گھروں میں سہم کر رہ گئے۔معلوم ہوا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی کمک بھی طلب کی گئی تھی تاہم پر تشدد احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔ طرفین کے مابین شدید نوعیت جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے علی الصبح4 بجے تک جاری رہا جس کے بعد فورسز اہلکار خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال کے دوران تشدد کی آڑ میں جنگجوئوں کو فرار ہونے کا موقعہ فراہم کیا جاتا ہے اور کریم آباد میں آئے روز اس طرح کے حالات درپیش ہوتے ہیں۔ فورسز اور پولیس کی بھاری تعداد کئی گھنٹوںتک علاقے میں موجود رہی تاہم مزاحمت اور احتجاج کی وجہ سے ان کی تمام تر توجہ جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کے بجائے صرف سنگباز ی کرنے والے لوگوں پر ہی مرکوز رہی ۔مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران5افراد کے معمولی طورزخمی ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس موقعے پر فورسز اہلکاروں نے متعدد رہائشی مکانوں، دکانوں اور دیگر عمارات کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور گلی کوچوں میں کھڑی گاڑیوں کی شدید توڑ پھوڑ کرنے کے بعد محاصرہ اٹھالیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں