سانحہ شوپیاں۔۔عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں

شوپیان سانحے نے کشمیری عوام کو رنجیدہ کردیا۔ جہاں تک مقامی لوگوںکا تعلق ہے ان کا کہنا ہے کہ فوج نے بلاجواز نہتے نوجوانوںپر گولیوں کی بارش کردی جبکہ ایسا کوئی بھی واقعہ رونما نہیں ہواتھا جس پر فوج کو اپنے بچائو میں گولیاں چلانی پڑتیں۔ مقامی لوگوں نے فوجی ترجمان کے اس اعلان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ لوگوں نے ایک فوجی افسر کو زندہ جلانے کی کوشش کی جس پر فوج نے بقول ترجمان اپنے بچائو میں گولی چلائی۔ فوجی ترجمان کے جھوٹ کا پتہ اس وقت چلا جب پولیس نے اس کی دلیل مستر د کرتے ہوئے ملوث فوجی میجر اور دوسرے اہلکاروں کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ جو دونوجوان اس سانحہ میں جان بحق ہوئے انہوں نے ابھی تک زندگی کی بیس بہاریں بھی نہیں دیکھی تھیں۔ لیکن ان دونوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے والے اگر سزا سے بچ جائیںگے تو یہ کون سا انصاف ہوگا۔ اس سانحے کے فوراًبعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ وزیر دفاع نرملا سیتارمن کے ساتھ اٹھایا اور انہیں بتایا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج نے نہتے نوجوانوں کیخلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا جبکہ معمولی شلنگ سے بھی معاملہ ٹھنڈا کیاجاسکتا تھا لیکن فوج نے اس کے بجائے طاقت کا زبردست مظاہر ہ کیا اور دو انسانی جانیں تلف ہوئیں۔ اس واردات کی ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے زبردست مذمت کی اور سیاسی طور پر پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ان رہنماوں نے اسے جبر و تشدد اور سفاکیت کی بد ترین مثال سے تعبیر کیا سواے بی جے پی کے جس کے ایک کارکن نے اس کو جائیز ٹھہرانے کی کوشش کی۔ بہر حال اب لوگ اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ ملوث فوجی یونٹ کیخلاف جو ایف آئی آر درج کیاگیا ہے اس کا کیانتیجہ نکلتا ہے کیونکہ ان دونوں نوجوانوں کے والدین نے اس بارے میں خدشات کااظہار کیا ہے اور کہا کہ کبھی مکمل نہ ہونے والی تحقیقات سے کیا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قصور واروں کو فوری طور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جاتی تو اس سے یہ معلوم ہوتا کہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملوث فوجیوں کو فوری طور گرفتار کرکے ان کیخلاف کھلی عدالت میں قتل کا مقدمہ چلایاجانا چاہئے تاکہ قاتلوں کو ان کے کئے کی سزا مل سکے۔ سیاسی رہنماوں کوبھی چاہئے کہ وہ اس معاملے پر سیاست کئے بغیر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ قاتلوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جاسکے اس مقصد کیلئے انہیں ہر ممکن طریقے پر دبائو بنائے رکھنا چاہئے۔ جب جنگجو اور فورسز کے درمیان معرکہ آرائی ہوتی ہے تو کوئی فوج کیخلا ف یہ نہیں کہتا ہے کہ اس نے گولیاں کیوں چلائیں لیکن جب نہتے لوگوں کو بلاوجہ اوربغیر اشتعال انگیزی گولیوں کا نشانہ بنایا جائے گا تو اس سے لوگوں کے دِل مجروح ہوجاتے ہیں اور آنکھیں اشکبار، اسلئے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ سانحہ شوپیان کے معاملے میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرکے قاتلوں کو ان کیکئے کی سزا دی جائے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں